رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری زمانہ میں عرب کے دو آدمیوں نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ ایک یمامہ کا مسیلمہ بن حبیب، اور دوسرا صنعاء کا اسود بن کعب عنسی۔ مسیلمہ نے 10 ھ میں ایک خط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ اس خط کا مضمون یہ تھا اللہ کے رسول مسیلمہ کی جانب سے اللہ کے رسول محمدؐ کے نام، سلام علیک، امابعد، بے شک میں نبوت کے معاملہ میں آپ کے ساتھ شریک کیا گیا ہوں، اس لیے نصف زمین ہمارے لیے اور نصف زمین قریش کے لیے۔ مسیلمہ کی طرف سے دو قاصد اس کا یہ خط لے کر مدینہ آئے۔ ان کا نام ابن النواحہ اور ابن اُثال تھا۔ اس کے بعد روایت میں آتا ہے
قال سمعت رسول اللّٰہ صلے اللّٰہ علیہ وسلم حین جاء ہ رسولا مسیلمۃ الکذاب بکتابہ یقول لھما وانتما تقولان مثل مایقول ۔ قالا نعم۔ فقال اَما واللّٰہ لولا اَن الرُسل لا تُقتل لضربتُ اعناقکما۔
قال: سَمِعتُ رسولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم حينَ جاءَه رسولا مُسَيلِمَةَ الكَذّابِ بكِتابِه، ورسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم يقولُ لَهُما: "وأَنتُما تَقولانِ مِثلَما يقولُ ". فقالا: نَعَم. فقالَ: "أما واللهِ لَولا أن الرُّسُلَ لا تُقتَلُ لَضَرَبتُ أعناقَكُما (السنن الكبرى للبيهقي،حدیث نمبر 18810)راوی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا جب کہ مسیلمہ کذاب کے دونوں قاصد اس کا خط لے کر آئے، کیا تم دونوں بھی وہی کہتے ہو جو وہ کہتا ہے ۔ دونوں نے کہا کہ ہاں۔ آپ نے فرمایا کہ خدا کی قسم، اگر یہ بات نہ ہوتی کہ قاصدوں کو قتل نہیں کیا جاتا تو میں تم دونوں کی گردنیں کٹوا دیتا۔
راوی حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ: فَمَضَتِ السُّنَّةُ بِأَنَّ الرُّسُلَ لَا تُقْتَلُ ۔ یعنی پھر یہ سنت جاری ہو گئی کہ قاصدں کو قتل نہ کیا جائے (البدایہ و النہایہ،جلد7،صفحہ 260 )
اس سنت نبوی سے اسلام کا ایک نہایت اہم اصول معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ بین اقوامی معاملات میں بین اقوامی رواج پر عمل کیا جائے گا۔ ہر زمانہ میں بین اقوامی تعلقات کے لیے کچھ رواج ہوتے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں بھی اس قسم کے بہت سے رواج ہیں۔ اب اقوام متحدہ نے ان کو زیادہ منظم صورت دے دی ہے۔ اس قسم کے تمام رواج مسلم ملکوں میں بھی اسی طرح قابل احترام ہوں گے جس طرح غیر مسلم ملکوں میں ان کو قابل احترام سمجھا جاتا ہے۔ البتہ اگر اس قسم کے معاملات میں کوئی ایسی چیز رواج پا جائے جو صراحتہً حرام ہو۔ مثلاً بین اقوامی میٹنگوں میں شراب پیش کرنا ، تو اس مخصوص جزء کی حد تک اس کی پیروی نہیں کی جائے گی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔