قرآن میں رب العالمین ہے، رب القوم نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام آفاقیت کو پسند کرتا ہے نہ کہ محدودیت کو۔ قرآن میں پیغمبر ؐ کو رحمت عالم کہا گیا ہے، آپ کو زحمت عالم نہیں کہا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام محبت کا مذہب ہے، وہ نفرت کا مذہب نہیں۔ قرآن میں الصلح خیر ہے، قرآن میں الحرب خیر نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام صلح کا ماحول لانا چاہتا ہے نہ کہ جنگ اور ٹکراؤ کا ماحول۔
قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ پڑھو (اقْرَأْ) 96:1۔ یہ نہیں فرمایا کہ گولی مارو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام علم کلچر کا نام ہے نہ کہ گن کلچر کا۔ قرآن میں صبر پر زور دیا گیا ہے، قرآن میں بے صبری کی تعلیم نہیں دی گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام یہ چاہتا ہے کہ لوگوں کی ایذاؤں پر تحمل سے کام لیا جائے، نہ یہ کہ کسی سے ایذا پہنچے تو مشتعل ہو کر اس سے لڑائی شروع کر دی جائے۔ قرآن میں بلند اخلاقی (خلق عظيم) کی تعریف کی گئی ہے نہ کہ برابری کے اخلاق کی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے نزدیک صحیح طریقہ یہ ہے کہ دوسروں کے سلوک کو نظرانداز کر کے ان کے ساتھ اعلیٰ اخلاق کا معاملہ کیا جائے۔
ان چند حوالوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام کیا ہے۔ اور اسلامی کلچر حقیقتہً کسے کہتے ہیں۔ اسلام خداوند عالم کی حیثیت خداوندی کا ظہور ہے۔ اسلام ساری کائنات کا دین ہے۔ اسلام وسیع تر انسانیت کا نمائندہ ہے۔ ایسی حالت میں اسلام کی وہی تشریح درست ہو گی جو اس کی ان حیثیتوں سے مطابقت رکھتی ہو۔ جو تشریح اسلام کے ان اعلیٰ تقاضوں کے مطابق نہ ہو وہ صحیح اسلامی تشریح بھی نہیں۔
سچا اسلام وہ ہے جو لوگوں کے اندر خدا کا خوف پیدا کرے۔ جو لوگوں میں دنیا پرستی کے مقابلہ میں آخرت پسندی کا ذہن بنائے۔ جو لوگوں کے دلوں میں انسان کی محبت پیدا کرے۔ جو لوگوں کو اپنے اور غیر کا فرق کئے بغیر سب کا خیرخواہ بنائے۔ جس کا نتیجہ یہ ہو کہ آدمی اپنے حقوق سے زیادہ اپنی ذمہ داریوں پر نظر رکھنے لگے۔
اسلام جن لوگوں کے دلوں میں اترتا ہے وہ انھیں رحمت اور سلامتی کا پیکر بنا دیتا ہے۔ اسلام اور نفرت و عداوت دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔