اسلام میں زندگی کے جو آداب بتائے گیے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب دو آدمی آپس میں ملیں تو وہ ایک دوسرے کو سلام کریں۔ یعنی ایک شخص کہے کہ السلام علیکم (تمہارے اوپر سلامتی ہو) اس کے بعد دوسرا شخص جواب میں کہے وعلیکم السلام (تمہارے اوپر بھی سلامتی ہو)
سلام کا یہ کلمہ ایک قسم کی دعا ہے۔ ایک مومن کے دل میں دوسرے مومن کے لیے خیرخواہی کا جذبہ ہوتا ہے۔ یہ جذبہ مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتا رہتا ہے۔ ان میں سے ایک مذکورہ سلام کا طریقہ ہے۔ سلام کی بہترین تشریح وہ ہے جو ابن عُیینہ سے نقل کی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کیا تم جانتے ہو کہ سلام کیا ہے۔ سلام کرنے والا دوسرے شخص سے کہتا ہے کہ تم مجھ سے محفوظ ہو (هَلْ تَدْرِي مَا السَّلَامُ يَقُولُ: أَنْتَ آمِنٌ مِنِّي) بر الوالدین للبخاری، اثر نمبر 45۔
سلام کی یہ تشریح بہت بامعنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں ہر اعتبار سے تمہارا خیرخواہ ہوں۔ میری طرف سے تمہیں کوئی خطرہ نہیں۔ میں تمہارے لیے کوئی مسئلہ پیدا کرنے والا نہیں۔
تم سے میری گفتگو ہو تو میں ہرگز ایسا نہیں کروں گا کہ میں تم سے بدکلامی کرنے لگوں۔ تمہارے ساتھ میرا کوئی لین دین ہو تو میں تمہارے ساتھ غصب اور خیانت کا معاملہ نہیں کروں گا۔ بلکہ تمہارا جو حق ہے، اس کو انصاف اور دیانت کے ساتھ پورا پورا ادا کروں گا۔ تمہارے خلاف اگر مجھے کوئی شکایت ہو جائے تب بھی ایسا نہیں ہو سکتا کہ میں عدل کے راستہ سے ہٹ جاؤں اور تمہارا دشمن بن کر تمہاری جڑ کاٹنے لگوں۔ تم سے اگر مجھے کوئی اختلاف ہو تو میں اس اختلاف کو جائز تنقید کے دائرہ میں رکھوں گا، میں اس کو عیب جوئی، الزام تراشی اور کردار کشی کی حد تک ہرگز نہیں لے جاؤں گا۔
السلام علیکم کوئی رسمی کلمہ نہیں، وہ بااصول زندگی گزارنے کا ایک عہد ہے۔ السلام علیکم کہنے والا گویا اس بات کا اعلان کر رہا ہوتا ہے کہ روزمرّہ کی زندگی میں اس کا سلوک دوسروں کے ساتھ کیسا ہو گا۔ وہ سلامتی اور خیرخواہی کا ہو گا نہ کہ بے امنی اور بدخواہی کا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔