قرآن میں اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان فرمایا کہ: ہم نے آدم کی اولاد کو عزت دی اور ہم نے ان کو خشکی اور تری میں سوار کیا۔ اور ان کو پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا اور ہم نے ان کو بہت سی مخلوقات پر فوقیت دی (17:70) ۔اس سے معلوم ہوا کہ انسان عین اپنی پیدائش کے اعتبار سے عزت و تکریم کا مستحق ہے۔ یہ تکریم ہر انسان کو فطری طور پر حاصل ہے، خواہ وہ ایک گروہ سے تعلق رکھتا ہو یا دوسرے گروہ سے۔
حدیث میں ہے کہ: لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَيُوَقِّرْ كَبِيرَنَا (سنن الترمذي،حدیث نمبر 1919) یعنی وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ہمارے چھوٹے پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑے کی عزت نہ کرے۔ اسی طرح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس کو چاہیے کہ وہ اپنے پڑوسی کی عزت کرے، جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس کو چاہیے کہ وہ اپنے مہمان کی عزت کرے (مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ) صحيح البخاري،حدیث نمبر 6019۔
قرآن و حدیث میں کثرت سے ایسے احکام ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ جو شخص خدا کے دین پر ایمان لائے اس پر لازم ہے کہ وہ خدا کے بندوں کا احترام کرے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی آدمی کی خدا پرستی کا اصل امتحان جہاں لیا جا رہا ہے وہ یہی لوگ ہیں۔ خدا سے تعلق کا اظہار اس دنیا میں دوسرے انسانوں سے تعلق کی شکل میں ہوتا ہے۔ خدا سے محبت کرنے والا ، عین اپنے اندرونی جذبہ کے تحت خدا کے بندوں سے محبت کرنے لگتا ہے۔
انسان کا یا انسانیت کا احترام کرنا یہ اسلام کی ایک بنیادی تعلیم ہے۔ کوئی آدمی اپنے مذہب کا ہو یا دوسرے مذہب کا۔ اپنی قوم سے تعلق رکھتا ہو یا غیر قوم سے۔ اپنے ملک کا آدمی ہو یا کسی اور ملک کا باشندہ ہو، حتی کہ وہ دوست فرقہ سے تعلق رکھتا ہو یا دشمن فرقہ سے، ہر حال میں وہ قابل احترام ہے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود انسان کا احترام کیا جائے۔ اس کا رویہ اگر مخالفانہ ہو تب بھی اس کے رویہ کو نظرانداز کر کے اس کے ساتھ عزت کا سلوک جاری رکھا جائے۔ اسلام کی نظر میں ہر انسان انسان ہے، ہر انسان اس قابل ہے کہ اس کا احترام کیا جائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔