قرآن ایک عالمی کتاب ہے۔ اس کی تمام تعلیمات آفاقیت پر مبنی ہیں، قرآن میں جس خدا کا تصور دیا گیا ہے وہ رب العالمین ہے (الفاتحہ1:1,) قرآن کا پیغمبر نذیر للعالمین ہے (الفرقان،25:1) قرآن کے ذریعہ جو دین بھیجا گیا ہے وہ ایک کائناتی دین ہے (آل عمران ،3:83 )
قرآن کا پیغام پوری انسانیت کے لیے ہے نہ کہ کسی مخصوص گروہ کے لیے۔ قرآن عالمی قدروں کو زندہ کرنا چاہتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قَالَ: لَنْ تُؤْمِنُوا حَتَّى تَرْحَمُوا، قَالُوا: كُلُّنَا رَحِيمٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ بِرَحْمَةِ أَحَدِكُمْ صَاحِبَهُ، وَلَكِنَّهَا رَحْمَةُ النَّاسِ، رَحْمَةُ الْعَامَّةِ (فتح الباری،)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم ہرگز مومن نہیں ہو سکتے جب تک تم رحم نہ کرو۔ لوگوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، ہم میں سے ہر شخص رحم کرنے والا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم اپنے ساتھی پر مہربانی کرو۔ بلکہ اس سے مراد تمام لوگوں اور تمام انسانوں کے ساتھ رحم کرنا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جب ایک شخص خدائے رب العالمین پر ایمان لاتا ہے تو عین اس کا ایمان ہی اس کے اندر آفاقی ذہن پیدا کر دیتا ہے۔ وہ فطرت سے جڑ جاتا ہے جو عین اپنی نوعیت کے اعتبار سے کائناتی ہے۔ وہ دریافت کرتا ہے کہ وہ وسیع تر ا نسانی برادری کا ایک جزء ہے کیونکہ ساری انسانی برادری ایک ہی خدا کی مخلوق اور اس کی عیال ہے۔
یہ آفاقی ذہن اس کے اندر آفاقی محبت کی پرورش کرتا ہے۔ سارے انسان اس کو اپنے دکھائی دینے لگتے ہیں۔ اس کے سینہ میں سارے انسانوں کی محبت کا چشمہ ابل پڑتا ہے۔ وہ سب کو اپنا سمجھنے لگتا ہے اور اپنے آپ کو سب کا۔
اسلام کی بنیاد پر بننے والے انسان کا مزاج اپنے آپ اس کو تمام انسانوں کا خیرخواہ بنا دیتا ہے۔ وہ تمام انسانوں سے محبت کرنے والا ہو جاتا ہے۔ تمام انسانوں کی خدمت کرنے کا جذبہ اس کے اندر امنڈ پڑتا ہے۔ وہ ہر اعتبار سے ایک آفاقی انسان بن جاتا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔