اسلام کے مطابق، پوری انسانیت خدا کا ایک کنبہ ہے۔ بیہقی کی ایک روایت ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام انسان خدا کی عیال کی مانند ہیں۔ اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ انسان وہ ہے جو اس خدائی عیال کے ساتھ بہترین سلوک کرے (الْخَلْقُ عِيَالُ اللَّهِ، فَأَحَبُّ الْخَلْقِ إِلَى اللَّهِ مَنْ أَحْسَنَ إِلَى عِيَالِهِ) شعب الإيمان للبيهقي،حدیث نمبر 7048۔اس بات کو مولانا الطاف حسین حالی نے ایک شعر میں اس طرح کہا ہے :
یہ پہلا سبق تھا کتابِ ہدیٰ کا
کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا
زید بن ارقم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے آخری پہر میں اٹھتے تو تہجد کی نماز سے فارغ ہو کر ذکر اور دعا میں مشغول ہو جاتے۔ اس دوران آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکلتے کہ اے اللہ، میں گواہی دیتا ہوں کہ سارے بندے آپس میں بھائی بھائی ہیں(أَنَا شَهِيدٌ أَنَّ الْعِبَادَ كُلَّهُمْ إِخْوَةٌ) سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 1508۔
تہجد کی نماز کا حکم مکہ میں اترا تھا۔ اس طرح آپ کا یہ معمول مکی دور ہی میں شروع ہو گیا تھا۔ حدیث کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ تہجد کے بعد آپ مختلف دعائیں پڑھتے تھے۔ تاہم مذکورہ دعا جس میں اخوت انسانی کی شہادت دی گئی ہے، وہ خاص طور پر مکی دور سے تعلق رکھتی ہے۔
جیسا کہ معلوم ہے، مکہ کے مشرکین اس زمانہ میں آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو سخت ایذائیںدے رہے تھے۔ اس کے باوجود رات کی تنہائیوں میں آپ ان کو برادرانہ احساسات کے ساتھ یاد فرماتے تھے۔
اس سے معلوم ہوا کہ اسلام جو معیاری انسان دیکھنا چاہتا ہے وہ انسان وہ ہے جس کا حال یہ ہو کہ لوگ اگر اس کے دشمن بن جائیں ، حتی کہ وہ اس کو مٹانے کے درپے ہو جائیں۔ تب بھی اس کے دل میں لوگوں کے لیے برادرانہ احساسات ہی امنڈ رہے ہوں۔ حتی کہ وہ اپنی تنہائیوں میں خدا کو گواہ بنا کر اس کا اعلان کر رہا ہو۔
اسلام آدمی کے اندر شفقت کا جذبہ ابھارتا ہے ۔ جو آدمی اسلام کو اختیار کرتا ہے وہ عین اسی کے ساتھ سارے انسانوں کے لیے شفیق اور مہربان بن جاتا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔