زندگی کی دوڑ میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی آگے چلا جاتا ہے اور کوئی پیچھے رہ جاتا ہے۔ کسی کے پاس ضرورت سے زیادہ مال آ جاتا ہے اور کسی کو ضرورت سے کم ملتا ہے۔ ایسے حالات میں اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کا مالی تعاون کریں۔ انسانی تقاضے کے تحت لوگ ایک دوسرے کے کام آئیں۔
اس سلسلہ میں قرآن میں بہت سی آیتیں آئی ہیں۔ مثلاً فرمایا: لِيُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِنْ سَعَتِهِ۔ یعنی وسعت والے کو چاہیے کہ وہ اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے (65:7) اسی طرح فرمایا: وَفِي أَمْوالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ)(51:19)۔ یعنی محسن اور متقی وہ لوگ ہیں جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا حصہ ہو۔
اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کا پسندیدہ انسان وہ ہے جس کو مالی فراخی ملے تو اپنے مال میں سے وہ دوسروں کے لیے خرچ کرے۔ اس کی کمائی میں صرف انھیں کا حصہ نہ ہو جو ضرورت کے تقاضے کے تحت سوال کرتے ہیں۔ بلکہ اپنے مال میں وہ ان کا حصہ بھی سمجھے جو کسی وجہ سے محروم ہو گئے ہیں۔ جو مانگتے نہیں ہیں یا مانگنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ وہ خود ایسے لوگوں کو جانے اور ان کے یہاں پہنچ کر ان کی مدد کرے۔
حدیث کی کتابوں میں کثرت سے ایسی روایتیں ہیں جن میں مال خرچ کرنے پر ابھارا گیا ہے۔ مثال کے طور پر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن چند لوگوں کے بارے میں جنت کی خوش خبری دی ہے، ان میں سے ایک وہ انسان ہے جس کو اللہ نے مال دیا پھر اس نے اپنے مال کو دوسروں کی مدد میں خرچ کیا (وَرَجُلٌ أَعْطَاهُ اللهُ مَالًا، فَهُوَ يُنْفِقُ)مسند احمد،حدیث نمبر 16966۔
اپنی کمائی کو دوسرں کی ضرورت پر خرچ کرنا اعلیٰ ترین انسانی صفت ہے، اور اسلام میں آخری حد تک اس کی تاکید کی گئی ہے۔ جس آدمی کو بھی مال کا کوئی حصہ ملتا ہے وہ اس کے لیے خدا کا ایک عطیہ ہوتا ہے۔ خدا اگر ضروری اسباب مہیا نہ کرے تو کوئی بھی شخص مال کمانے پر قادر نہیں ہو سکتا۔ اس لیے جب بھی کسی کو مال ملے تو اس پر لازم ہو جاتا ہے کہ خدا کی شکر گزاری کے طور پر وہ اس کا ایک حصہ نکالے اور اس کو خدا کے بندوں پر خرچ کرے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔