قرآن میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں سے فرمایا کہ تم لوگ پاک اور طیّب چیزوں سے کھاؤ (23:51) پاکیزہ روزی سے پاکیزہ روح پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے اسلام میں پاکیزہ روزی پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔
البخاری کی ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَا أَكَلَ أَحَدٌ طَعَامًا قَطُّ، خَيْرًا مِنْ أَنْ يَأْكُلَ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ (صحيح البخاري،حدیث نمبر 2072)یعنی کسی آدمی کی سب سے زیادہ بہتر روزی یہ ہے کہ وہ اپنے ہاتھ کی محنت کا کھانا کھائے۔
مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ سب سے زیادہ پاکیزہ کمائی کون سی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ( وہ جو آدمی نے اپنے ہاتھ سے محنت کر کے کمایا ہو (قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَيُّ الْكَسْبِ أَطْيَبُ؟ قَالَ: " عَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ (مسند أحمد،حدیث نمبر 17265)
محنت کی کمائی ہی دراصل کمائی ہے۔ اس کے بغیر جو حاصل کیا جائے وہ لوٹ ہے۔ محنت کرنے والا اپنی محنت سے جو کچھ حاصل کرتا ہے وہ اس کا جائز حق ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ غلط تدبیروں سے جو کچھ حاصل کیا جائے وہ دراصل دوسروں کا حصہ تھا جس کو ایک شخص نے کسی حق کے بغیر ناجائز طور پر اپنے لیے حاصل کر لیا۔
مذکورہ حدیث میں ’’ہاتھ‘‘ کا لفظ علامتی طور پر آیا ہے۔ اس میں جسم اور دماغ دونوں قسم کی محنت شامل ہے۔ سماجی سرگرمیوں میں دونوں قسم کی محنت کی ضرورت ہوتی ہے، اور دونوں طرح کی محنت جائز محنت ہے۔ آدمی خواہ جسمانی محنت سے حاصل کرے یا دماغی محنت سے، دونوں ہی یکساں طور پر اس حدیث کا مصداق ہوں گے۔ البتہ اس کو واقعی محنت ہونا چاہیے۔
محنت کی کمائی سے فرد کے اندر پاکیزہ شخصیت بنتی ہے اور سماج کے اندر پاکیزہ ماحول۔ اس طرح محنت کی کمائی سے انفرادی زندگی اور اجتمائی زندگی دونوں ہی درست ہوتی چلی جاتی ہیں۔
جس سماج میں لوگ محنت کر کے کمائیں وہاں منصفانہ ماحول بنے گا۔ اور جہاں لوگ بلامحنت حاصل کرنا چاہیں وہاں مجرمانہ ماحول۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔