یہ دنیا حادثات کی دنیا ہے۔ یہاں یکساں حالات کا برقرار رہنا ممکن نہیں۔ یہاں عین فطرت کے قانون اور عین تخلیقی نظام کے تحت ایسا ہوتا ہے کہ بار بار حالات میں تبدیلیاں ہوتی ہیں۔ بار بار نقصان سے سابقہ پیش آتا ہے۔ قرآن کے الفاظ میں، یہ نقصان کبھی خوف کی صورت میں پیش آئے گا، کبھی بھوک کی صورت میں، اور کبھی مال اور جان اور فائدہ میں کمی کی صورت میں (البقرہ،2:155)
ایسی حالت میں ایک انسان وہ ہے جو فریاد و ماتم کرنے لگتا ہے۔ وہ شکایت اور احتجاج کی نفسیات میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ وہ مایوسی کا شکار ہو کر رہ جاتا ہے۔ مگر یہ سچے انسانوں کا طریقہ نہیں۔ یہ ان لوگوں کا طریقہ ہے جو سیدھے راستہ سے بھٹک جاتے ہیں۔
ایسے مواقع پر کسی انسان کے لیے صحیح اور سچا طریقہ صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ وہ سارے معاملہ کو مالکِ کائنات کے اوپر ڈال دے۔ وہ مصیبت کو صبر کا معاملہ بنائے نہ کہ بے صبری کا۔ وہ اس کو وقتی تاثر کے خانہ میں ڈالے نہ کہ مستقل تاثر کے خانہ میں۔
جن لوگوں کے اندر یہ ربانی شخصیت ہو۔ جو سچائی کے راستہ کو پائے ہوئے ہوں۔ ان پر جب ایسی کوئی آفت آتی کی زبان سے نکل پڑتا ہے کہ ہم اللہ کے لیے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ خدایا، تو ہماری مصیبت میں ہم کو اجر دے۔ تو اس کے بعد ہمارے لیے خیر کی صورت پیدا فرما دے:إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 918)
جو بندہ شخصی یا قومی مصیبت پیش آنے کے بعد یہ کہہ پڑے۔ اس کو فوراً ایک نیا سنبھالا مل جائے گا۔ جھٹکا لگنے کے بعد وہ دوبارہ اٹھ کھڑا ہو گا۔ ناامیدی کے تجربہ سے دوچار ہونے کے بعد وہ جلد ہی امید کا نیا تحفہ اپنے لیے پا لے گا۔
ایسے لوگ ماضی کو کھو کر دوبارہ اپنے مستقبل کو پا لیتے ہیں، وہ محرومی میں بھی یافت کا سرمایہ حاصل کر لیتے ہیں۔ جہاں بظاہر کہانی ختم ہوتی ہوئی نظر آتی ہو وہاں بھی وہ ایک نیا پیراگراف معلوم کر لیتے ہیں جس کے ذریعہ وہ اپنی زندگی کی کہانی کو ازسرنو شروع کر سکیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔