اسلامی کلچر حقیقتہً دعوہ کلچر ہے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے اسلام کو گن کلچر کے ہم معنی بنا دیا ہے۔ یہ بلاشبہ سب سے بڑا جرم ہے جو موجودہ زمانہ کے کچھ نام نہاد انقلابی مفکرین کی رہنمائی میں مسلمانوں کا ایک طبقہ انجام دے رہا ہے۔ اللہ چاہتا ہے کہ مسلمان اقوام عالم کے اوپر رحمت کی بارش برسائیں۔ مگر وہ اقوام عالم کے اوپر آگ کی بارش برسانے والے بنے ہوئے ہیں۔ اس قسم کا عمل خواہ کتنا ہی زیادہ اسلام کے نام پر کیا جائے وہ بلاشبہ باطل ہے ، وہ خدا کے منصوبہ کے سراسر خلاف ہے۔
یہ دنیا کیا ہے۔ دنیا جنتی انسانوں کی انتخاب گاہ ہے۔ قیامت سے پہلے کے مرحلہ میں جنتی انسانوں کا انتخاب کیا جا رہا ہے، قیامت کے بعد کے مرحلہ میں جنتی انسانوں کو جنت کی ابدی آرامگاہوں میں بسایا جائے گا۔ یہ حقیقت قرآن میں آخری حد تک واضح ہے، بشرطیکہ آدمی سنجیدگی کے ساتھ قرآن پر غور کرے۔
قرآن بتاتا ہے کہ زمین و آسمان اس لیے بنائے گئے ہیں تاکہ اولوالباب اس کو دیکھ کر آیاتِ خداوندی کا ادراک کر سکیں (آل عمران ،3:190-191 ) انسان کو اس لیے تخلیق کیا گیا ہے تاکہ امتحانی حالات میں ڈال کر یہ دیکھا جائے کہ ان میں سے کون ہے جو جنت کی نفیس فضاؤں میں بسائے جانے کے لائق ہے (الملک ،67:2 ) اللہ کے پیغمبر اس لیے بھیجے گئے تاکہ وہ انسانوں کو ہدایت کا وہ راستہ بتائیں جو انھیں جنت میں لے جانے والا ہے (ابراہیم،14:1)
زمین و آسمان کی کائنات اس لیے پھیلائی گئی ہے کہ انسان اس کو دیکھ کر خدا کی بے پناہ کبریائی کو محسوس کرے، وہ خدا کے عظمت و جلال کے احساس سے کانپ اٹھے۔ دنیا میں رنگ اور خوشبو اور راحت اور معنویت کا سیلاب اس لیے بہایا گیا ہے کہ آدمی ان کے اندر خدا کی عنایتوں کو دیکھے ، وہ ہمہ تن خدا کی رحمتوں کا طلب گار بن جائے۔ حق کے داعی اس لیے کھڑے کیے گئے ہیں تاکہ ان کا اعتراف کر کے آدمی صاحب معرفت ہونے کا ثبوت دے، وہ حق کی حمایت کر کے خدا کے خصوصی بندوں میں شامل ہو جائے۔ اس مزاج کے تحت جو کلچر بنتا ہے وہ دعوہ کلچر ہوتا ہے نہ کہ گن کلچر۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔