ایک دیہاتی آدمی مدینہ آیا۔ وہ مسجد نبوی میں داخل ہوا جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ موجود تھے۔ وہ مسجد کے اندر کھڑا ہو کر پیشاب کرنے لگا۔ لوگوں نے اس کو تنبیہہ کرنا چاہا مگر آپ نے منع فرما دیا۔ آپ نے کہا کہ دیہاتی کو چھوڑ دو ا ور ایک ڈول پانی لا کر وہاں بہا دو۔ چنانچہ لوگوں نے ایسا ہی کیا۔ (بخاری، مسلم، نسائی، ترمذی، ابو داؤد، مؤطا)
(Sahih al-Bukhari: 220, Sunan al-Nasai: 56, Sunan al-Tirmidhi: 147, Sunan Abi Dawud: 380, Musnad Ahmad: 10533)
دیہاتی پر اس واقعہ کا بہت اثر پڑا۔ اپنے قبیلہ میں واپس جا کر اس نے لوگوں سے پورا قصہ بیان کیا۔ اس نے کہا کہ میں نے یہ حرکت کی کہ عبادت خانہ میں پیشاب کر دیا۔ مگر خدا کی قسم، محمد نے مجھ پر غصہ نہیں کیا۔ انھوں نے مجھے نہیں جھڑکا (مسند احمد، حدیث نمبر 10533)۔قبیلہ کے لوگ یہ بات سن کر بہت متاثر ہوئے۔ حتی کہ سارا قبیلہ دین اسلام میں داخل ہو گیا۔
اب موجودہ زمانہ کا واقعہ لیجئے۔ ہولی کا دن تھا۔ ہندو نوجوانوں کی ایک پارٹی ہولی کھیلتی ہوئی شہر کی ایک سڑک سے گزر رہی تھی۔ راستہ میں ایک مسجد آ گئی۔ ایک نوجوان نے جوش میں آ کر مسجد کی طرف پچکاری ماری۔ مسجد کی ایک دیوار پر ہولی کے رنگ کے چھینٹے پڑ گیے۔ مسجد کی دیوار پر ہولی کا رنگ دیکھ کر وہاں کے مسلمانوں کو غصہ آ گیا۔ وہ ہندو نوجوانوں سے لڑ گیے۔ مار پیٹ کی یہ خبر پورے شہر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ ہر طرف فساد بھڑک اٹھا۔ مسلمانوں نے دیوار پر رنگ کو برداشت نہیں کیا تھا، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ شہر کی سڑکیں ان کے خون سے رنگین کر دی گئیں۔ اور ان کے گھروں اور دکانوں کو نذر آتش کر دیا گیا۔
دو واقعہ میں یہ فرق کیوں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدائی دین پر تھے۔ اور موجودہ زمانہ کے مسلمان قومی دین پر ہیں۔ جو لوگ خدائی دین پر چلیں، ان کو فرشتوں کی مدد حاصل ہوتی ہے۔ ان کے لیے دلوں کے بند دروازے کھولے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس معاملہ ان لوگوں کا ہے جو قومی دین پر چلیں۔ ایسے لوگوں کا ساتھی صرف ان کا نفس ہوتا ہے۔ ان کا عمل ضد اور نفسانیت کی آگ بھڑکاتا ہے۔ وہ دوسروں کو نفرت کا تحفہ دیتے ہیں، اس لیے دوسروں کی طرف سے بھی انھیں نفرت اور انتقام کا تحفہ دیا جاتا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔