یروی ابوداؤد عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ، فَقَالَ: اضْرِبُوهُ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَمِنَّا الضَّارِبُ بِيَدِهِ، وَالضَّارِبُ بِنَعْلِهِ، وَالضَّارِبُ بِثَوْبِهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: أَخْزَاكَ اللَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: لَا تَقُولُوا هَكَذَا، لَا تُعِينُوا عَلَيْهِ الشَّيْطَانَ۔حضرت ابوہرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے شراب پی تھی۔ آپ نے فرمایا کہ اس کو مارو ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ ہم میں سے کسی نے اپنے ہاتھ سے مارنا شروع کیا، کسی نے اپنے جوتے سے اور کسی نے اپنے کپڑے سے۔ جب مار چکے تو لوگوں میں سے کسی شخص نے کہا کہ خدا تجھے رسوا کرے۔ رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ایسا مت کہو۔ اور اس کے اوپر شیطان کی مدد نہ کرو (سنن أبي داود،حدیث نمبر 4477)۔
اسلام میں مجرم کو جو سزا دی جاتی ہے وہ نفرت کے جذبہ کے تحت نہیں دی جاتی بلکہ صرف حدود اللہ کی ادائیگی کے لئے دی جاتی ہے۔ سزا دینے والے کے ا ندر اگر مجرم کے مقابلہ میں اپنی بڑائی کا احساس پیدا ہو جائے تو یہ بھی اس کے لئے ایک جرم ہو گا۔ کسی کو سزا دینے کا اختیار صرف اس شخص کو ہے جو نفرت کے جذبات سے بلند ہو کر اسے سزا دے۔
مجرم پر حد جاری کرنے کے بعد اسے برا بھلا کہنا خدا کی سزا پر انسانی سزا کا اضافہ ہے جس کا حق کسی کو بھی نہیں۔ رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ حد جاری کرتے ہوئے بھی آپ کو مجرم کے ساتھ بے پناہ ہمدردی تھی۔ آپ نے یہ نہیں چاہا کہ لوگوں کے برا بھلا کہنے سے مجرم کے اندر ردعمل پیدا ہو اور وہ ندامت اور اصلاح کی طرف رغبت کرنے کے بجائے سرکشی اور بغاوت کی طرف مائل ہو جائے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جن کو خدا کی طرف سے یہ اجازت نامہ حاصل ہوتا ہے کہ وہ خدا کے بندوں کے اوپر داروغہ بن کر کھڑے ہوں اور ان کے اوپر خدا کی مقرر کی ہوئی سزائیں نافذ کریں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی انسانوں سے محبت اتنی زیادہ بڑھی ہوئی ہو کہ وہ مجرم کے لئے بھی باقی رہے۔ وہ جرم کے ارتکاب کے باوجود ایک شخص سے نفرت نہ کر سکیں۔ وہ خیر خواہی کی حد تک ہر انسان سے دل چسپی رکھنے والے ہوں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔