Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Deen-e-Insaniayat
Deen-e-Insaniayat

مجرم کے ساتھ بھی

Urdu · 3 min

یروی ابوداؤد عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‌أُتِيَ ‌بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ، فَقَالَ: اضْرِبُوهُ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَمِنَّا الضَّارِبُ بِيَدِهِ، وَالضَّارِبُ بِنَعْلِهِ، وَالضَّارِبُ بِثَوْبِهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: أَخْزَاكَ اللَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: لَا تَقُولُوا هَكَذَا، لَا تُعِينُوا عَلَيْهِ الشَّيْطَانَ۔حضرت ابوہرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے شراب پی تھی۔ آپ نے فرمایا کہ اس کو مارو ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ ہم میں سے کسی نے اپنے ہاتھ سے مارنا شروع کیا، کسی نے اپنے جوتے سے اور کسی نے اپنے کپڑے سے۔ جب مار چکے تو لوگوں میں سے کسی شخص نے کہا کہ خدا تجھے رسوا کرے۔ رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ایسا مت کہو۔ اور اس کے اوپر شیطان کی مدد نہ کرو (سنن أبي داود،حدیث نمبر 4477)۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اسلام میں مجرم کو جو سزا دی جاتی ہے وہ نفرت کے جذبہ کے تحت نہیں دی جاتی بلکہ صرف حدود اللہ کی ادائیگی کے لئے دی جاتی ہے۔ سزا دینے والے کے ا ندر اگر مجرم کے مقابلہ میں اپنی بڑائی کا احساس پیدا ہو جائے تو یہ بھی اس کے لئے ایک جرم ہو گا۔ کسی کو سزا دینے کا اختیار صرف اس شخص کو ہے جو نفرت کے جذبات سے بلند ہو کر اسے سزا دے۔

مجرم پر حد جاری کرنے کے بعد اسے برا بھلا کہنا خدا کی سزا پر انسانی سزا کا اضافہ ہے جس کا حق کسی کو بھی نہیں۔ رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ حد جاری کرتے ہوئے بھی آپ کو مجرم کے ساتھ بے پناہ ہمدردی تھی۔ آپ نے یہ نہیں چاہا کہ لوگوں کے برا بھلا کہنے سے مجرم کے اندر ردعمل پیدا ہو اور وہ ندامت اور اصلاح کی طرف رغبت کرنے کے بجائے سرکشی اور بغاوت کی طرف مائل ہو جائے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جن کو خدا کی طرف سے یہ اجازت نامہ حاصل ہوتا ہے کہ وہ خدا کے بندوں کے اوپر داروغہ بن کر کھڑے ہوں اور ان کے اوپر خدا کی مقرر کی ہوئی سزائیں نافذ کریں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی انسانوں سے محبت اتنی زیادہ بڑھی ہوئی ہو کہ وہ مجرم کے لئے بھی باقی رہے۔ وہ جرم کے ارتکاب کے باوجود ایک شخص سے نفرت نہ کر سکیں۔ وہ خیر خواہی کی حد تک ہر انسان سے دل چسپی رکھنے والے ہوں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content