Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Deen-e-Insaniayat
Deen-e-Insaniayat

مشرک کا حکم

Urdu · 3 min

قرآن میں ہے کہ خنزیر کا گوشت ناپاک ہے ( أَوْ لَحْمَ خِنزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ) 6:145۔ اسی طرح قرآن میں ہے کہ مشرک ناپاک ہیں ( انما المشرکون نجس)اس لفظی اشتراک کی بنا پر کچھ لوگوں نے سمجھ لیا کہ جس طرح خنزیر باعتبار جسم ناپاک ہے، اسی طرح مشرک بھی باعتبار جسم ناپاک ہے۔ چنانچہ مشرک کا برتن، کھانا، کپڑا اور اس کی تمام چھوئی ہوئی چیزوں کو ناپاک سمجھ لیا گیا۔ حتی کہ کہا گیا کہ کوئی مسلمان اگر مشرک سے مصافحہ کر لے تو اس کے بعد وہ اپنے ہاتھ کو دھوئے اور وضو کر کے اپنے کو پاک کرے (قَالَ أَشْعَثُ عَنِ الْحَسَنِ: ‌مَنْ ‌صَافَحَهُمْ ‌فَلْيَتَوَضَّأْ) تفسير ابن كثير،جلد4،صفحہ 272۔

quoted sourceQuoted from another author or source

یہ صحیح نہیں۔ اگرچہ مذکورہ دونوں آیتوں میں بظاہر یکساں لفظ ہے، مگر دونوں کا مطلب یکساں نہیں۔ ’’خنزیر نجس ہے‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ خنزیر کا جسم نجس ہے۔ اس کے برعکس ’’مشرک نجس ہے‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ مشرک کا عقیدہ نجس ہے۔ جہاں تک مشرک کے بدن کی نجاست کا تعلق ہے، جمہور کی رائے یہ ہے کہ مشرک کا بدن اور اس کا وجود نجس نہیں۔ اسی بنا پر اہل کتاب کے کھانے کو جائز ٹھہرایا گیا ہے ( وَأَمَّا نَجَاسَةُ بَدَنِهِ فَالْجُمْهُورُ عَلَى أَنَّهُ ‌لَيْسَ ‌بِنَجِسٍ ‌الْبَدَنِ ‌وَالذَّاتِ، لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَحَلَّ طَعَامَ أَهْلِ الْكِتَابِ) تفسير ابن كثير ،جلد4،صفحہ 271۔عبدالرحمن الجزیری لکھتے ہیں: اماقوله تعالیٰ (إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ) 9:28۔ فَالْمُرَادُ بِهِ ‌النَّجَاسَةُ ‌الْمَعْنَوِيَّةُ الَّتِي حَكَمَ بِهَا الشَّارِعُ، وَلَيْسَ الْمُرَادُ أَنَّ ذَاتَ الْمُشْرِكِ نَجِسَةٌ كَنَجَاسَةِ الْخِنزِيرِ (الفقہ علی المذاہب الاربعہ ،جلد1،صفحہ 9)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اللہ تعالیٰ کا قول کہ مشرکین نجس ہیں، اس سے مراد معنوی نجاست ہے جس کا حکم شارع نے بیان کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مشرک کا وجود ناپاک ہے جس طرح خنزیر کا وجود ناپاک ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے تمام مسائل مسلمانوں میں دعوتی ذہن ختم ہونے کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ دوسری قوموں کو مدعو سمجھنا انھیں قابلِ التفات بناتا ہے۔ مگر جب د وسری قومیں مدعو نہ سمجھی جائیں تو وہ قابلِ اجتناب بن کر رہ جائیں گی۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content