رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدنی زندگی کا ایک واقعہ ہے۔ ایک دن آپ مدینہ کی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، کچھ اور صحابہ بھی وہاں موجود تھے۔ اسی دوران ایک اعرابی آیا۔ وہ مسجد کے اندر پیشاب کرنے لگا۔ لوگ اس کو مارنے کے لیے دوڑے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو منع کر دیا۔ آپ نے فرمایا کہ اس کو چھوڑ دو۔ پھر جب وہ پیشاب کر چکا تو آپ نے فرمایا کہ ایک ڈول پانی لاؤ اور وہاں پانی بہا کر اسے صاف کرو۔
آخر میں اس کی وجہ بتاتے ہوئے آپ نے فرمایا: فَإِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ ۔ یعنی تم آسانی پیدا کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو، تم مشکل پیدا کرنے والے بنا کر نہیں بھیجے گئے (صحيح البخاري،حدیث نمبر 6128)۔
اس سے اسلام کا ایک مستقل اصول معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ اجتماعی زندگی میں جب کسی کی طرف سے کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آئے تو اہل ایمان کی ساری توجہ پیدا شدہ مسئلہ کو حل کرنے پر لگنا چاہیے نہ کہ مسئلہ پیدا کرنے والے کو سزا دینے پر۔ ایسے موقع پر اہل ایمان کے اندر اصلاح کا جذبہ ابھرنا چاہیے نہ کہ انتقام لینے کا جذبہ۔ ایسی صورت حال میں وہ طریقہ اختیار کرنا چاہیے جو مسئلہ کو گھٹانے والا ہو نہ کہ مسئلہ کو اور زیادہ بڑھا دینے والا۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے کہیں آگ لگ جائے تو فطرت کا تقاضا ہے کہ اس کو فوراً بجھایا جائے نہ کہ اس کو اور زیادہ بھڑکانے کی کوشش کی جائے۔
ہر نزاعی معاملہ میں ایک تیسیر کی صورت ہوتی ہے اور دوسری تعسیر کی صورت۔ ایک صورت اختیار کرنے میں پیش آمدہ مسئلہ دبتا ہے۔ اور دوسری صورت اختیار کرنے میں پیش آمدہ مسئلہ اور زیادہ شدت کے ساتھ ابھر آتا ہے۔ پہلی صورت تیسیر کی ہے، اور دوسری صورت تعسیر کی۔ اسلام ہمیشہ تیسیر کی صورت کو پسند کرتا ہے۔ تعسیر کی صورت کسی بھی حال میں اسلام میں پسندیدہ نہیں ۔
یہ اسلام کا ایک مستقل اصول ہے۔ اس کا تعلق ذاتی زندگی سے بھی ہے اور اجتماعی زندگی سے بھی۔ اس کو گھر کے اندر کے معاملات میں بھی اختیار کرنا ہے اور گھر کے باہر کے معاملات میں بھی۔ وہ ایک مکمل اصول ہے اور ایک مکمل نظام حیات۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔