قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے تمام انسانوں کو ایک ہی جوڑے سے پیدا کیا ہے۔ یہ دراصل ایک ہی ماں اور باپ کی نسل ہے جو سارے کرۂ ارض پر پھیلی ہوئی ہے (النساء ا) اس سے معلوم ہوا کہ تمام انسان، ظاہری اختلافات کے باوجود ، باعتبار پیدائش ایک ہیں۔ دوسرے لفظ میں یہ کہ سب کے سب آپس میں خونی بھائی (blood brothers) ہیں۔
یہ اخوت ایک عالمی اخوت ہے۔ چنانچہ قرآن میں ایک طرف کہا گیا ہے کہ): إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ ( یعنی اہل ایمان سب آپس میں بھائی بھائی ہیں (49:10) ۔دوسری طرف غیر مسلموں کو بھی مسلمانوں کا بھائی بتایا گیا ہے۔ اہل ایمان اگر دینی اعتبار سے ہمارے بھائی ہیں تو غیر مسلم حیاتیاتی اعتبار سے تمام مسلمانوں کے لیے بھائی اور بہن کی حیثیت رکھتے ہیں۔
چنانچہ قرآن میں جن پیغمبروں کا نام آیا ہے، ان کی گمراہ قوموں کا ذکر ان کے بھائی کی حیثیت سے کیا گیا ہے۔ مثلاً ثَمُودَ أَخاهُمْ صالِحاً (7:73) وَإِلى مَدْيَنَ أَخاهُمْ شُعَيْباً (7:85) إِذْ قالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ نُوحٌ (26:106) إِذْ قالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ (26:124) إِذْ قالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ لُوطٌ (26:161)۔
حدیث میں کثرت سے ایسی تعلیمات ہیں جن میں تلقین کی گئی ہے کہ تم لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بھائی اور بہن جیسا سلوک کرو۔ یہ بات کہیں عام الفاظ میں ہے اور کہیں مومن اور مسلم کے الفاظ میں۔ تاہم اس کا خطاب عمومی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ عام انسانوں کے لیے اس کی حیثیت گویا نصیحت کی ہے اور اہل ایمان کے لیے اس کی حیثیت فریضہ اور حکم کی۔
اسلام کے مطابق ، خدا کے تمام بندے آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ پوری انسانیت ایک وسیع تر خاندان کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایک گھر کے اندر دو بھائیوں میں جو برادرانہ تعلق ہوتا ہے، وہی برادرانہ تعلق وسیع تر دائرہ میں تمام انسانوں سے مطلوب ہے۔ حدیث میں اگر کہیں المسلم اخوالمسلم کا لفظ ہے تو وہ بھی گروہی معنی میں نہیں ہے بلکہ اصولی معنی میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سچے انسان ہمیشہ بھائی بھائی کی طرح رہتے ہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔