Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Deen-e-Insaniayat
Deen-e-Insaniayat

امانت اور عہد

Urdu · 4 min

قرآن میں اہل حق کی ایک پہچان یہ بتائی گئی ہے کہ وہ اپنی امانتوں کا اور اپنے عہد کا پورا خیال کرنے والے ہوتے ہیں (وَالَّذِينَ هُمْ لِأَماناتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ راعُونَ) 23:8۔مولانا شبیر احمد عثمانی نے اس کی مختصر اور جامع تفسیر ان الفاظ میں کی ہے یعنی وہ امانت اور قول و قرار کی حفاظت کرتے ہیں خیانت اور بدعہدی نہیں کرتے، نہ اللہ کے معاملہ میں اور نہ بندوں کے معاملہ میں (صفحہ 443 )

quoted sourceQuoted from another author or source

ہر انسان کے پاس جو کچھ ہے وہ سب کا سب امانت ہے، وہ یا تو خدا کی دی ہوئی امانت ہے یا بندوں کی دی ہوئی امانت۔ اسی طرح ہر انسان عہد اور قرار میں بندھا ہوا ہے۔ کچھ عہد ایسے ہیں جو اس نے لفظی صورت میں کر رکھے ہیں، اور کچھ عہد ایسے ہیں جو الفاظ بولے بغیر اپنے آپ اس کے اوپر قائم ہوتے ہیں۔ ان تمام قسم کی امانتوں اور ان تمام قسم کے عہدوں کو اسے پورا کرنا ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو وہ انسانیت کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔ وہ اللہ کے نزدیک اپنے آپ کو مجرم ثابت کر رہا ہے۔

آدمی کا جسم اور اس کا قلب و دماغ خدا کی امانت ہے۔ اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس پورے وجود کو صرف اسی حد کے اندر استعمال کرے جو خدا نے اس کے لیے مقرر کر دی ہے۔ اس کا ہاتھ اور پاؤں انصاف کے لیے اٹھے مگر وہ ظلم کے لیے نہ اٹھے۔ اس کا ذہن خیرخواہی کی بات سوچے مگر وہ بدخواہی کی بات کبھی نہ سوچے۔ اسی طرح انسانوں کی جو امانتیں اس کے پاس ہیں، خواہ وہ لکھی ہوئی ہوں یا بغیر لکھی ہوئی، وہ ان کو پوری طرح امانت داروں کو ادا کرے۔ وہ دوسرے کی چیز کو کبھی اپنی چیز نہ سمجھے۔

اسی طرح ہر آدمی ایک طرف خدا اور دوسری طرف بندوں کے عہد میں بندھا ہوا ہے۔ قرآن کے مطابق، ایک خدا کا فطری عہد ہے جس میں ہر ایک انسان پوری طرح شامل ہے۔ دوسرا ایمانی عہد ہے، اس میں وہ لوگ شامل ہیں جو خدا پر باقاعدہ ایمان لائیں۔ اور شعوری طور پر خدا کے عہد میں بندھ جائیں۔ اس کے بعد بندوں کے عہد کا معاملہ ہے۔ کچھ الفاظ میں لکھے ہوئے عہد ہیں، اور کچھ وہ ہیں جو کسی خاندان یا سماج یا ریاست کا فرد ہونے کی حیثیت سے آدمی کے اوپر اپنے آپ قائم ہوتے ہیں۔ ان تمام عہدوں اور ذمہ داریوں کو پورا کرنا آدمی کا فطری فرض بھی ہے اور شرعی فرض بھی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content