قرآن میں مومن کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں کہ جب ان کو غصہ آتا ہے تو وہ معاف کر دیتے ہیں ( وَإِذا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ)42:37۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ مومن کو جب دوسرے شخص سے ایسا سلوک ملتا ہے جو اسے غصہ دلا دے تو وہ غصہ کا جواب غصہ سے نہیں دیتا۔ بلکہ وہ غصہ کا جواب معافی سے دیتا ہے۔ وہ ردعمل کے بجائے درگزر کا طریقہ اختیار کر کے پہلے ہی مرحلہ میں اس کو ختم کر دیتا ہے۔ وہ فریق ثانی سے الجھنے کے بجائے خود اپنی ذات میں مشغول ہو جاتا ہے۔
ایک شخص پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اس نے کہا کہ اے خدا کے رسولؐ، مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جس کو میں اپنی زندگی بنا لوں۔ اور وہ بات مختصر ہو تاکہ میں اسے بھول نہ جاؤں۔ آپؐ نے جواب دیا: لَا تَغْضَبْ ۔ یعنی غصہ نہ کر (موَطأ الامام مالک، حدیث نمبر1891)۔
غصہ کبھی خلا میں نہیں آتا۔ غصہ ہمیشہ اس وقت آتا ہے جب کہ کوئی شخص آپ سے غصہ دلانے والی بات کرے۔ جب کوئی شخص آپ کے ساتھ برا سلوک کرے۔ جب کسی سے آپ کو ایسی تکلیف پہنچے جو آپ کی اَنا کو بھڑکانے والی ہو۔ غصہ ایک جوابی عمل ہے۔ وہ ہمیشہ اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب کسی سے آپ کو کوئی ناپسندیدہ تجربہ پیش آیا ہو۔
ایسے موقع پر ایک طریقہ ردعمل کا ہوتا ہے، یعنی جو کچھ دوسرے شخص نے کیا ہے وہی خود بھی کرنا۔ مگر یہ اسلام کی تعلیم نہیں۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ دوسرا شخص آپ کو غصہ دلائے تب بھی آپ غصہ نہ ہوں۔ دوسرا شخص اشتعال انگیزی کرے تب بھی آپ اپنے کو مشتعل ہونے سے بچا لیں۔
مومن کو یقین ہوتا ہے کہ لوگوں کی تکلیفوں پر اگر وہ صبر کر لے تو خدا کے یہاں اس کو زیادہ بہتر اجر ملے گا۔ یہ غصہ ، اس کے سینہ میں ایک ایسا اتھاہ سکون پیدا کر دیتا ہے جو کسی بھی مخالفانہ بات سے برہم نہ ہو۔ وہ عین اپنے ایمانی مزاج کے تحت غصہ کو معافی میں بدل دیتا ہے۔ وہ اشتعال انگیزی کو اعراض کے خانہ میں ڈال دیتا ہے۔ وہ اَنا کو بھڑکانے والی بات سے برعکس طور پر تواضع اور انسانیت کی غذا لے لیتا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔