ہجرت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمانؓ اور حضرت ابو الدرداءؓ کے درمیان مواخاۃ قائم فرمائی تھی۔ حضرت سلمان اور حضرت ابوالدرداء کا جب ساتھ ہوا تو حضرت سلمان نے دیکھا کہ ابو الدرداء دن کو روزہ رکھتے ہیں اور رات کو کثرت سے نمازیں پڑھتے ہیں۔ دوسری انسانی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے ان کے پاس زیادہ وقت باقی نہیں رہتا۔
حضرت سلمان نے حضرت ابوالدرداء کو اس سے منع کیا۔ انھوں نے کہا کہ خدا کے حقوق کے ساتھ انسانوں کے حقوق بھی تمہارے اوپر ہیں۔ تم کو چاہیے کہ تم ہر حق دار کا حق ادا کرو ( فَأَعْطِ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ) ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ سلمان نے ٹھیک کہا (صدقَ سلمان) صحيح البخاري حدیث نمبر 1968۔ دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ سلمان فقیہہ ہیں (علل الدارقطني، جلد8، صفحہ 128)۔ سلمان کو علم میں حصہ ملا ہے (حلیۃ الاولیا للاصفہانی، جلد1، صفحہ188 )
حق داروں کو ان کا حق پہنچانے کا یہ معاملہ اسلام میں اتنا سنگین ہے کہ حدیث میں آیا ہے کہ اگر تم نے دنیا میں حق دار کو اس کا حق نہ دیا تو قیامت کے دن تمہیں ان کا حق ادا کرنا ہو گا۔ لَتُؤَدَُّنَّ الْحُقُوقَُ إِلَى أَهْلِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2582) یعنی موجودہ امتحان کی دنیا میں جو آدمی حقوق کی ادائیگی میں ناکام رہے گا وہ آنے والے فیصلہ کے دن شدید تر انداز میں اس کا بھگتان ادا کرنے پر مجبور ہو گا۔
حقوق کی ادائیگی کا یہ معاملہ کسی ایک چیز سے متعلق نہیں ہے بلکہ تمام چیزوں سے متعلق ہے۔ مثلاً گھر کا حق یہ ہے کہ آپ اپنے بیوی بچوں کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔ پڑوسی کا حق یہ ہے کہ آپ ان کے لیے کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہ پیدا کریں۔ راستہ کا حق یہ ہے کہ آپ کوئی ایسا فعل نہ کریں جس سے دوسرے راستہ چلنے والوں کو تکلیف پہنچے۔ سماج کا حق یہ ہے کہ آپ تمام لوگوں کے ساتھ خیرخواہی کا معاملہ کریں۔ قوم کا حق یہ ہے کہ آپ اس کی صلاح و فلاح کو اپنی ذمہ داری سمجھیں اور کبھی اس سے غافل نہ ہوں۔
حقوق کی ادائیگی ایک مکمل نظریہ ہے اور اس کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔