Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Deen-e-Insaniayat
Deen-e-Insaniayat

سچائی

Urdu · 3 min

قرآن (الاحزاب) میں اہل ایمان کو سچ بولنے والے مرد اور سچ بولنے والی عورتیں ( وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقاتِ)33:35۔کہا گیا ہے۔ یہ کسی مرد یا کسی عورت کی نہایت اعلیٰ انسانی صفت ہے کہ جب وہ بولے تو ہمیشہ سچ بولے۔ وہ اپنی زبان سے کبھی سچ کے خلاف کوئی بات نہ نکالے۔ یہی استبازانہ کردار کسی انسان کے شایان شان ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس سلسلہ میں بہت سی حدیثیں آئی ہیں جو سچ کی اہمیت کو بتاتی ہیں۔ مثلاً ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‌عَلَيْكُمْ ‌بِالصِّدْقِ فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ فَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ(صحیح مسلم، حدیث نمبر 2607)۔ یعنی تم ہمیشہ سچ بولو، کیوں کہ سچ بولنا آدمی کو نیکی کی طرف لے جاتا ہے۔ اور تم جھوٹ بولنے والے سے بچوں، کیونکہ جھوٹ بولنا آدمی کو برائی کی طرف لے جاتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس حدیث میں سچ بولنے کا حکم بھی دیا گیا ہے اور اسی کے ساتھ اس کی حکمت بھی بتا دی گئی ہے۔ جب آدمی سچ بولنے کا اہتمام کرتا ہے تو اس کے اندر سچائی والی شخصیت پیدا ہوتی ہے۔ اس کے مزاج اور اس کی سوچ پر سچائی کا رنگ غالب آ جاتا ہے۔ اس کے اندر ایک ایسی روح پرورش پاتی ہے جو نفسیاتی پیچیدگی کی خرابیوں سے پاک ہو۔ اس طرح سچ بولنے کی صفت اس کو ہر اعتبار سے ایک سچا انسان بنا دیتی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس کے برعکس جس آدمی کا حال یہ ہو کہ وہ بولے تو جھوٹ بولے، اس کی اندرونی شخصیت گندی ہوتی رہتی ہے۔ اس کے اندر پاک صاف روح کی پرورش نہیں ہوتی۔ وہ برائیوں میں لت پت ہوتا چلا جاتا ہے۔

اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ: ‌أَحَبُّ ‌الْحَدِيثِ إِلَيَّ أَصْدَقُهُ (صحیح البخاری،حدیث نمبر 3131) یعنی سب سے زیادہ اچھی بات میرے نزدیک وہ ہے جو سچی بات ہو۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: التَّاجِرُ ‌الصَّدُوقُ الأَمِينُ مَعَ النَّبِيِّينَ (سنن الترمذي،حدیث نمبر 1209) یعنی سچا اور امانت دار تاجر قیامت کے دن نبیوں کے ساتھ ہو گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content