قرآن (الاحزاب) میں اہل ایمان کو سچ بولنے والے مرد اور سچ بولنے والی عورتیں ( وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقاتِ)33:35۔کہا گیا ہے۔ یہ کسی مرد یا کسی عورت کی نہایت اعلیٰ انسانی صفت ہے کہ جب وہ بولے تو ہمیشہ سچ بولے۔ وہ اپنی زبان سے کبھی سچ کے خلاف کوئی بات نہ نکالے۔ یہی استبازانہ کردار کسی انسان کے شایان شان ہے۔
اس سلسلہ میں بہت سی حدیثیں آئی ہیں جو سچ کی اہمیت کو بتاتی ہیں۔ مثلاً ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ فَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ(صحیح مسلم، حدیث نمبر 2607)۔ یعنی تم ہمیشہ سچ بولو، کیوں کہ سچ بولنا آدمی کو نیکی کی طرف لے جاتا ہے۔ اور تم جھوٹ بولنے والے سے بچوں، کیونکہ جھوٹ بولنا آدمی کو برائی کی طرف لے جاتا ہے۔
اس حدیث میں سچ بولنے کا حکم بھی دیا گیا ہے اور اسی کے ساتھ اس کی حکمت بھی بتا دی گئی ہے۔ جب آدمی سچ بولنے کا اہتمام کرتا ہے تو اس کے اندر سچائی والی شخصیت پیدا ہوتی ہے۔ اس کے مزاج اور اس کی سوچ پر سچائی کا رنگ غالب آ جاتا ہے۔ اس کے اندر ایک ایسی روح پرورش پاتی ہے جو نفسیاتی پیچیدگی کی خرابیوں سے پاک ہو۔ اس طرح سچ بولنے کی صفت اس کو ہر اعتبار سے ایک سچا انسان بنا دیتی ہے۔
اس کے برعکس جس آدمی کا حال یہ ہو کہ وہ بولے تو جھوٹ بولے، اس کی اندرونی شخصیت گندی ہوتی رہتی ہے۔ اس کے اندر پاک صاف روح کی پرورش نہیں ہوتی۔ وہ برائیوں میں لت پت ہوتا چلا جاتا ہے۔
اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ: أَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلَيَّ أَصْدَقُهُ (صحیح البخاری،حدیث نمبر 3131) یعنی سب سے زیادہ اچھی بات میرے نزدیک وہ ہے جو سچی بات ہو۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: التَّاجِرُ الصَّدُوقُ الأَمِينُ مَعَ النَّبِيِّينَ (سنن الترمذي،حدیث نمبر 1209) یعنی سچا اور امانت دار تاجر قیامت کے دن نبیوں کے ساتھ ہو گا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔