قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اس دنیا کو اس کے بنانے والے نے اس طرح بنایا ہے کہ یہاں جماؤ اور ٹھہراؤ صرف اس کو ملتا ہے جو نفع بخشی کا ثبوت دے ( وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ)13:17۔اس دنیا کی ہر چیز اسی اصول پر بنائی گئی ہے۔ اس دنیا میں کوئی چیز صرف اس وقت تک قائم رہتی ہے جب تک وہ دوسروں کے لیے نفع بخش بنی ہوئی ہو۔ جب کوئی چیز اپنی نفع بخشی کھو دے تو اس کے بعد وہ زندگی کا حق بھی کھو دیتی ہے۔ اس کے بعد فطرت کا نظام اس کو غیر مطلوب قرار دے کر اسے باہر پھیک دیتا ہے۔
اسی نظام فطرت کو خدا نے انسان کے لیے بھی پسند کیا ہے (آل عمران،3:83) خدا کا مطلوب انسان وہ ہے جو اس دنیا میں ایک نفع بخش وجود بن کر رہے۔ جو حقیقی معنوں میں دینے والا بن جائے۔ جس سے دوسروں کو وہ چیز مل رہی ہو جو انھیں اپنی زندگی اور بقا کے لیے درکار ہے۔ ایسا ہی انسان یہ حق رکھتا ہے کہ اس کو انسان کہا جائے۔ ایسا ہی انسان اس کا مستحق ہے کہ اس کے لیے خدا کی اس دنیا میں کامیابی اور ترقی کا فیصلہ کیا جائے۔
حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جو شخص اپنے بھائی کو فائدہ پہنچا سکے تو وہ ضرور اس کو فائدہ پہنچائے ( مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَفْعَلْ) صحیح مسلم، حدیث نمبر 2199۔
نفع بخش بننے کے لیے اس کی ضرورت نہیں کہ آدمی بہت زیادہ اسباب و وسائل کا مالک ہو۔ ہر آدمی اپنے امکان کے دائرہ میں دوسرے کے لیے نفع بخش بن سکتا ہے۔ مثلاً کسی کے حق میں خیر خواہی کا ایک کلمہ بھی اس کو نفع پہنچانا ہے۔ اسی طرح کسی کو ایک اچھا مشورہ دینا، کسی کا بوجھ اٹھا دینا، کسی کے کام میں اپنی مدد شامل کر دینا، کسی بھٹکے ہوئے کو راستہ دکھا دینا، بقدر وسعت کسی کی مالی مدد کرنا، راستہ کی رکاوٹوں کو دور کرنا، وغیرہ سب نفع بخشی میں شامل ہیں۔ حتی کہ اگر کوئی شخص کسی بھی قسم کی مدد پہنچانے کی پوزیشن میں نہ ہو تو وہ اپنے بھائی کے حق میں نیک دعا کرے۔ یہ بھی اس کی طرف سے نفع پہنچانے کا ایک کام ہو گا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔