رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ما أَحْسَنَ الْقَصْدَ فِي الْغِنَى، وَأَحْسَنَ الْقَصْدَ فِي الْفَقْرِ، وَأَحْسَنَ الْقَصْدَ فِي الْعِبَادَةِ (مسند البزار، حدیث نمبر 2946)۔کیا ہی اچھی ہے میانہ روی دولت مندی میں، کیا ہی اچھی ہے میانہ روی مفلسی میں، کیا ہی اچھی ہے میانہ روی عبادت میں۔ ایک اور روایت کے مطابق آپ نے فرمایا: الْقَصْدَ الْقَصْدَ تَبْلُغُوا (میانہ روی ، میانہ روی، تم منزل پر پہنچ جاؤ گے) صحيح البخاري،حدیث نمبر 6463۔
قرآن میں ہے :سَفَراً قاصِداً (9:42) یعنی بے مشقت سفر۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ایک صحابی کہتے ہیں كَانَتْ صَلَاتُهُ قَصْدًا. وَخُطْبَتُهُ قَصْدًا(صحیح مسلم، حدیث نمبر 866)۔آپ کی نماز معتدل ہوتی تھی اور آپ کا خطبہ بھی معتدل ہوتا تھا) لسان العرب میں قصد کی تشریح کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ درمیانی عمل جس میں نہ افراط ہو اور نہ تفریط (لسان العرب، جلد 3، صفحہ354 )
مومن کا طریقہ قصد کا طریقہ ہے، انفرادی معاملات میں بھی اور اجتماعی معاملات میں بھی۔ وہ ہمیشہ معتدل انداز اختیار کرتا ہے، خواہ وہ ایک طرح کی صورت حال میں ہو یا دوسری طرح کی صورت حال میں۔
موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس لیے یہاں کسی فرد یا قوم کی حالت کبھی یکساں نہیں رہ سکتی۔ یہاں انسان کے لیے کبھی اچھے حالات ہوتے ہیں اور کبھی برے حالات۔ اس کو کبھی پُرسکون ماحول میں رہنا ہوتا ہے اور کبھی اشتعال انگیز ماحول میں۔ وہ لوگوں کے درمیان کبھی طاقتور ہوتا ہے اور کبھی کمزور۔ اس کی زندگی کبھی اپنوں کے درمیان گزرتی ہے اور کبھی غیروں کے درمیان۔ اس کو کبھی دوستوں کے ساتھ سابقہ پیش آتا ہے اور کبھی دشمنوں کے ساتھ۔
مگر ایمان اس کو ایک تھما ہوا انسان بنا دیتا ہے۔ وہ ہر حال میں اعتدال پر قائم رہتا ہے۔ وہ ہمیشہ اپنے آپ کو اللہ کی رسّی میں باندھے رہتا ہے۔ اہل ایمان اہل اعتدال ہوتے ہیں۔ حالات کا اتار چڑھاؤ ان کے سکون کو برہم نہیں کرتا۔ ان کے خود اپنے مقرر اصول ان کی زندگی کا رخ متعین کرتے ہیں نہ کہ بیرونی اشخاص کے چھیڑے ہوئے مسائل۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔