انسانیت کا ایک نہایت اہم تقاضا یہ ہے کہ آدمی لوگوں سے معاملہ کرتے ہوئے عدل و انصاف سے کام لے۔ وہ کسی حال میں بھی ظلم اور بے انصافی کا طریقہ اختیار نہ کرے۔ چنانچہ اسلام میں شدت کے ساتھ عادلانہ رویہ اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ بے شک اللہ حکم دیتا ہے عدل کا اور احسان کا (16:90) دوسری جگہ فرمایا کہ کہو کہ میرے رب نے مجھے قسط کا حکم دیا ہے (8:29) قسط اور عدل کی مادی علامت ترازو ہے۔ جس طرح ترازو کسی چیز کو ٹھیک ٹھیک باٹ کے مطابق تول دیتا ہے۔ اسی طرح آدمی کا قول و عمل بھی ہونا چاہیے۔ آدمی کو چاہیے کہ جب اس کے سامنے کوئی معاملہ پیش آئے تو وہ پوری طرح منصفانہ روش اختیار کرے۔ جب وہ بولے تو اس کا بول حقیقت کے ترازو میں تلا ہوا ہو۔
قرآن میں بار بار حکم دیا گیا ہے کہ اجتماعی معاملات کو ہمیشہ عدل و انصاف کے مطابق طے کرو۔ مثلاً فرمایا کہ جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو (4:58) اسی طرح فرمایا کہ معاملات میں جب بولو تو انصاف کی بات بولو (الانعام،6:153) اسی طرح فرمایا کہ نزاعی معاملات پیش آئیں تو فریقین کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کراؤ اور ان کے ساتھ ہمیشہ انصاف کرو (الحجرات ،49:9 )
یہ ایک عمومی حکم ہے۔ خاندان اور سماج میں ہمیشہ اختلافات پیش آتے ہیں۔ ایسے مواقع پر تمام متعلقین کا فرض ہے کہ وہ معاملہ کو انصاف کے مطابق طے کریں۔ کسی فریق کی طرف جھکے بغیر امر واقعہ کے مطابق معاملہ کا فیصلہ کرائیں۔
پھر فرمایا کہ: اے ایمان والو، تم اللہ کے لیے قائم رہنے والے اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بنو۔ اور کسی گروہ کی دشمنی تم کو اس پر نہ ابھارے کہ تم انصاف نہ کرو، تم بہرحال انصاف کرو، یہی روش تقویٰ سے زیادہ قریب ہے (المائدہ ،5:85 ) اس سے معلوم ہوا کہ عدل و انصاف کی اہمیت اتنی زیادہ کہ زیر معاملہ آدمی دشمن ہو تب بھی انصاف کو نہ چھوڑا جائے، تب بھی وہی بات کہی جائے جو عدل و انصاف کے مطابق ہو۔ زمین و آسمان کا نظام سراپا عدل پر قائم ہے۔ یہاں انسان کے لیے بھی وہی روش درست ہے جو عدل و انصاف پرمبنی ہو۔ غیر عادلانہ روش کے لیے اس دنیا میں کوئی جگہ نہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔