قرآن میں خدا کی صفت الرحمٰن اور الرحیم بتائی گئی ہے۔ یعنی بہت زیادہ مہربان، نہایت رحم والا۔ اسی طرح پیغمبر ا سلام صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمۃ للعالمین (21:107) کہا گیا ہے۔ یعنی آپ ساری دنیا کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ آپ کی سب سے زیادہ نمایاں صفت آپ کا آفاقی رحمت کا حامل ہونا ہے۔
قرآن میں انسان کو یہ خدائی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کریں اور ایک دوسرے کو ہمدردی کی نصیحت کریں (وَتَواصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَواصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ)90:17۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان دوسرے انسان کے ساتھ شفقت اور ہمدردی اور مہربانی کا سلوک کرے، حتی کہ اگر دوسروں کی طرف سے زیادتی کا تجربہ ہو تب بھی اس کو برداشت کرتے ہوئے اپنا ہمدردانہ رویہ بدستور پوری طرح باقی رکھے۔ القرطبی نے وَتَواصَوْا بِالْمَرْحَمَةِکی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ خلق خدا کے ساتھ رحمت کا معاملہ کیا جائے (بِالرَّحْمَةِ عَلَى الْخَلْقِ) الجامع لأحكام القرآن، جلد 20، صفحہ71۔
اس سلسلہ میں کثرت سے روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمُ الرَّحْمَنُ(سنن أبي داود،حدیث نمبر 4941) ۔یعنی رحم کرنے والوں پر خدائے رحمن رحم فرمائے گا۔ اسی طرح آپ نے فرمایا: ارْحَمُوا مَنْ فِي الأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ(سنن الترمذي، حدیث نمبر 1924 )۔ یعنی تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تمہارے اوپر رحم کرے گا۔ ایک اور حدیث کے الفاظ یہ ہیں: إِنَّمَا يَرْحَمُ اللهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَُ ۔ یعنی اللہ اپنے بندوں میں ان پرر حم کرے گا جو دوسروں پر رحم کرتے ہیں (صحيح البخاري ، حدیث نمبر 1284 )اسلام کی یہ تعلیم اتنی زیادہ پھیلی کہ وہ پوری دنیا کے مسلم لٹریچر میں شامل ہو گئی۔ ہر زبان میں اس کی گونج سنائی دینے لگی۔ ہندستان کے ایک مسلم شاعر نے کہا:
کرو مہربانی تم اہل زمیں پر
خدا مہربان ہو گا عرش بریں پر
اس معاملہ کی اہمیت اسلام میں اتنی زیادہ ہے کہ اس کو انتہائی ذاتی مسئلہ کی حیثیت دے دی گئی ہے۔ چنانچہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لَا يَرْحَمُ اللهُ مَنْ لَا يَرْحَمُ النَّاسَ ۔ یعنی اللہ اس انسان پر مہربانی نہیں کرے گا جو دسرے لوگوں پر مہربانی نہ کرے (صحیح البخاری ، حدیث نمبر 7376)۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔