Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Deen-e-Insaniayat
Deen-e-Insaniayat

مہربانی کا سلوک

Urdu · 4 min

قرآن میں خدا کی صفت الرحمٰن اور الرحیم بتائی گئی ہے۔ یعنی بہت زیادہ مہربان، نہایت رحم والا۔ اسی طرح پیغمبر ا سلام صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمۃ للعالمین (21:107) کہا گیا ہے۔ یعنی آپ ساری دنیا کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ آپ کی سب سے زیادہ نمایاں صفت آپ کا آفاقی رحمت کا حامل ہونا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن میں انسان کو یہ خدائی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کریں اور ایک دوسرے کو ہمدردی کی نصیحت کریں (وَتَواصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَواصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ)90:17۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان دوسرے انسان کے ساتھ شفقت اور ہمدردی اور مہربانی کا سلوک کرے، حتی کہ اگر دوسروں کی طرف سے زیادتی کا تجربہ ہو تب بھی اس کو برداشت کرتے ہوئے اپنا ہمدردانہ رویہ بدستور پوری طرح باقی رکھے۔ القرطبی نے وَتَواصَوْا بِالْمَرْحَمَةِکی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ خلق خدا کے ساتھ رحمت کا معاملہ کیا جائے (بِالرَّحْمَةِ ‌عَلَى ‌الْخَلْقِ) الجامع لأحكام القرآن، جلد 20، صفحہ71۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس سلسلہ میں کثرت سے روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‌الرَّاحِمُونَ ‌يَرْحَمُهُمُ الرَّحْمَنُ(سنن أبي داود،حدیث نمبر 4941) ۔یعنی رحم کرنے والوں پر خدائے رحمن رحم فرمائے گا۔ اسی طرح آپ نے فرمایا: ارْحَمُوا مَنْ فِي الأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ(سنن الترمذي، حدیث نمبر 1924 )۔ یعنی تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تمہارے اوپر رحم کرے گا۔ ایک اور حدیث کے الفاظ یہ ہیں: إِنَّمَا يَرْحَمُ اللهُ ‌مِنْ ‌عِبَادِهِ ‌الرُّحَمَاءَُ ۔ یعنی اللہ اپنے بندوں میں ان پرر حم کرے گا جو دوسروں پر رحم کرتے ہیں (صحيح البخاري ، حدیث نمبر 1284 )اسلام کی یہ تعلیم اتنی زیادہ پھیلی کہ وہ پوری دنیا کے مسلم لٹریچر میں شامل ہو گئی۔ ہر زبان میں اس کی گونج سنائی دینے لگی۔ ہندستان کے ایک مسلم شاعر نے کہا:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

کرو مہربانی تم اہل زمیں پر

خدا مہربان ہو گا عرش بریں پر

اس معاملہ کی اہمیت اسلام میں اتنی زیادہ ہے کہ اس کو انتہائی ذاتی مسئلہ کی حیثیت دے دی گئی ہے۔ چنانچہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لَا يَرْحَمُ اللهُ ‌مَنْ ‌لَا ‌يَرْحَمُ ‌النَّاسَ ۔ یعنی اللہ اس انسان پر مہربانی نہیں کرے گا جو دسرے لوگوں پر مہربانی نہ کرے (صحیح البخاری ، حدیث نمبر 7376)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content