قرآن میں اہل ایمان کی جو صفات بتائی گئی ہیں ان میں سے ایک صفت دوسرے کے مفاد کے لیے اپنے مفاد کو قربان کرنا ہے۔ یعنی اپنی ضرورت پر دوسرے کی ضرورت کو مقدم سمجھنا۔ خود زحمت اٹھا کر دوسرے کی مدد کرنا۔ اپنی ذات پر دوسرے کی ذات کو ترجیح (Preference) دینا۔ اس انسانی صفت کے لیے قرآنی لفظ ایثار ہے۔
ہجرت کے بعد اچانک بہت سے لوگ مکہ سے مدینہ آ گئے۔ یہ لوگ بظاہر مدینہ والوں کے اوپر بوجھ تھے۔ کیوں کہ مہاجرین اس وقت بالکل خالی ہاتھ تھے۔ اور مقامی باشندوں (انصار) کے پاس مکان، زمین، باغ وغیرہ تھے۔ مگر اہل مدینہ نے انتہائی خوش دلی کے ساتھ ان نو واردین کا استقبال کیا جو بظاہر ان کی معیشت پر بوجھ بن کر آئے تھے۔ اس کا تذکرہ کرتے ہوئے قرآن میں فرمایا
اور جو لوگ پہلے سے مدینہ میں قرار پکڑے ہوئے ہیں اور ایمان استوار کیے ہوئے ہیں، جو ان کے پاس ہجرت کر کے آتا ہے اس سے وہ محبت کرتے ہیں اور وہ اپنے دلوں میں اس سے تنگی نہیں پاتے جو مہاجرین کو دیا جاتا ہے۔ اور وہ ان کو اپنے اوپر مقدم رکھتے ہیں (ایثار کا معاملہ کرتے ہیں) اگرچہ ان کے اوپر فاقہ ہو۔ اور جو اپنے جی کے لالچ سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں (59:9)
یہ ایثار ایک اعلیٰ انسانی صفت ہے۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو ہر روز ہر آدمی کے ساتھ پیش آتا ہے۔ ہر صبح و شام یہ موقع سامنے آتا ہے جبکہ ایک آدمی محسوس کرتا ہے کہ اسے اپنے آپ کو پیچھے کر کے دوسرے کو آگے بڑھنے کا راستہ دینا چاہیے۔ خود تکلیف اٹھا کر دوسرے کو آرام پہنچانا چاہیے۔ اپنے اخراجات میں کمی کر کے دوسرے کی مدد کرنا چاہیے۔ اپنے وقت کا ایک حصہ نکال کر اس کو دوسرے کی خدمت میں لگانا چاہیے۔ اپنی ذات کو حذف کر کے دوسرے کو اوپر اٹھانا چاہیے۔ خود چپ ہو کر دوسرے کو بولنے کا موقع دینا چاہیے۔ سڑک پر اپنی گاڑی کنارے کر کے دوسرے کو گنجائش دینا چاہیے کہ وہ اپنی منزل کی طرف جا سکے۔
اسی ذاتی قربانی (self-sacrifice)کا نام ایثار ہے۔ یہ ایک اعلیٰ انسانی صفت ہے۔ قرآن کے مطابق ، وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں جن کے اندر یہ انسانی صفت پائی جاتی ہو۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔