پاک اور صاف ستھرا رہنے کو اسلام میں بہت پسند کیا گیا ہے۔ قرآن میں ہے کہ: إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ (اللہ محبوب رکھتا ہے توبہ کرنے والوں کو اور اللہ محبوب رکھتا ہے پاک رہنے والوں کو) 2:222۔
آدمی جب غلطی کرنے کے بعد شرمندہ ہوتا ہے اور دوبارہ سچائی کی طرف پلٹ آتا ہے تو اس عمل کو توبہ کہا جاتا ہے۔ توبہ کا یہ عمل آدمی کے اندرون کو پاک کر دیتا ہے۔ اسی طرح پانی باہر کی گندگی کو پاک کرنے کا ذریعہ ہے۔ توبہ کے ذریعہ آدمی اپنی روح کو پاک کرتا ہے اور پانی کے ذریعہ اپنے جسم کو۔ اور دونوں ہی چیزوں کی اسلام میں بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔
حدیث میں ہے کہ: الطُّهُورُ نِصْفُ الإِيمَانِ (سنن الترمذي،حدیث نمبر 3519) یعنی پاکیزگی آدھا ایمان ہے۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: إِنَّ اللهَ نَظِيفٌ يُحِبُّ النَّظَافَةَ (سنن الترمذي،حدیث نمبر 2799) یعنی اللہ نظیف ہے اور نظافت کو پسند کرتا ہے۔ ابن ماجہ، کتاب الطہارۃ میں ایک مستقل باب ہے جس کا عنوان ہے: باب ثواب الطہور (پاکی کے ثواب کا باب)۔
انسان ایک ایسی مخلوق ہے جس کو خصوصی طور پر حساسیت کی صفت عطا ہوئی ہے۔ اس لیے فطری طور پر انسان صفائی ستھرائی کو پسند کرتا ہے۔ اسلام چوں کہ دین فطرت ہے، اس لیے اس میں اس بات کی بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے کہ انسان ہمیشہ صاف ستھرا رہے۔ اس کا جسم، اس کا لباس، اس کا گھر، اس کی ہرچیز میں ستھرا پن دکھائی دے۔
صفائی ستھرائی کی اسی اہمیت کی بنا پر اصحاب رسولؐ میں روزانہ غسل کا عام رواج تھا۔ موطا امام مالک (کتاب الطہارۃ) میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے صاحبزادہ کی روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میرے باپ (عبداللہ بن عمر) ہر وضو سے پہلے غسل کرتے تھے۔ اس طرح وہ روزانہ پانچ بار نہاتے تھے۔ خلیفہ سوم حضرت عثمان بن عفانؓ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ ہر دن ایک بار نہاتے تھے (كَانَ عُثْمَانُ يَغْتَسِلُ كُلَّ يَوْمٍ مَرَّةً) مسند احمد ،حدیث نمبر 484۔جسم اور روح کی صفائی اسلام کے تقاضوں میں سے ایک لازمی تقاضا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔