اسلام کی ایک تعلیم تواضع ہے۔ قرآن میں سورہ لقمان میں فرمایا کہ لوگوں سے بے رخی نہ کرو اور زمین میں اکڑ کر نہ چلو۔ بے شک اللہ کسی اکڑنے والے اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کرو اور اپنی آواز کو پست رکھو۔ بے شک سب سے بری آواز گدھے کی آواز ہے (31:18–19)۔
انسان کا حسن اکڑنے میں نہیں ہے بلکہ جھکنے میں ہے۔ انسان کو فخر زیب نہیں دیتا بلکہ تواضع کی روش اسے زیب دیتی ہے۔ انسان کا کمال یہ نہیں ہے کہ وہ شور والی آوازیں نکالے، انسان کا کمال یہ ہے کہ اس کی بول میں نرمی کی صفت پیدا ہو جائے۔ اکڑ کا انداز غیر سنجیدگی کی علامت ہے۔ اسلام آدمی کو آخری حد تک سنجیدہ بناتا ہے۔ اس لیے ایک شخص جب پورے معنی میں مسلم بنتا ہے تو وہ پورے معنی میں متواضع بھی بن جاتا ہے۔ تواضع خلاصۂ انسانیت ہے، اور اسی کے ساتھ وہ خلاصۂ اسلام بھی ہے۔
حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّ اللهَ أَوْحَى إِلَيَّ أَنْ تَوَاضَعُوا حَتَّى لَا يَبْغِيَ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ، وَلَا يَفْخَرَ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ(سنن ابی داؤد،حدیث نمبر4895)۔ یعنی، اللہ تعالیٰ نے میری طرف یہ وحی بھیجی کہ تم لوگ تواضع کی روش اختیار کرو، یہاں تک کہ کوئی شخص کسی کے اوپر دراز دستی نہ کرے، کوئی شخص کسی کے اوپر فخر نہ کرے ۔
اسلام یہ تصور دیتا ہے کہ بڑا صرف ایک خدا ہے، اس کے سوا جو انسان ہیں وہ سب کے سب یکساں طور پر اس کے بندے ہیں۔ یہ عقیدہ جب صحیح طور پر دلوں میں بیٹھ جاتا ہے تو وہ اپنے آپ تواضع کی کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔ خدا کو اپنا بڑا بنانے والے انسان کے اندر جو صفت پیدا ہوتی ہے، اس کا دوسرا نام تواضع ہے۔
تواضع انسانیت کا زیور ہے۔ جس سماج کے افراد میں تواضع کی صفت ہو، اس سماج میں دوسری تمام خوبیاں اپنے آپ پیدا ہو جائیں گی۔ تواضع والا آدمی اپنی فطرت پر ہوتا ہے اور غیر متواضع آدمی اپنی فطرت سے ہٹ جاتا ہے، تواضع آدمی کو حقیقت پسند بناتی ہے۔ جس آدمی کے اندر تواضع نہ ہو اس کے اندر حقیقت پسندی بھی نہیں ہو گی۔ وہ بظاہر انسان ہو گا مگر حقیقتا غیر انسان۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔