مدینہ میں ایک بار ایک معاملہ میں باہمی بدگمانی کا واقعہ پیش آیا، اس موقع پر قرآن میں یہ حکم اترا کہ جب تم لوگوں نے اس بات کو سنا تو مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں نے ایک دوسرے کی بابت نیک گمان کیوں نہیں کیا، اور کیوں نہ کہا کہ یہ کھلا ہوا بہتان ہے (24:12)۔
اس سے معلوم ہوا کہ اسلام چاہتا ہے کہ معاشرہ کے اندر خوش گمانی کی فضا ہو۔ لوگ کسی کے خلاف کوئی بات سنیں تو نہ صرف یہ کہ اس کو بیان نہ کریں بلکہ دل میں بھی اس پر یقین نہ کریں۔ وہ اپنے ذہن کو ہمیشہ اچھے خیالات سے آباد کریں۔
قرآن کی ایک اور آیت میں فرمایا کہ تم لوگ بہت سے گمانوں سے بچو، کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں (49:12)۔ سماج میں اختلاف اور تفریق کی برائیاں ہمیشہ کسی بدگمانی سے شروع ہوتی ہیں۔ اگر بدگمانی کو شروع ہی میں ختم کر دیا جائے تو باہمی تعلقات بگڑنے کی نوبت ہی نہ آئے۔ اور سماج کے اندر خوشگوار انسانی ماحول مسلسل باقی رہے۔ گمان سے بچنا گویا فتنہ کو اس کے آغاز ہی میں کچل دینا ہے۔
حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ (صحیح مسلم،حدیث نمبر2563)۔ یعنی تم لوگ بدگمانی سے بچو، کیوں کہ بدگمانی سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے۔
اس طرح کی بہت سی حدیثیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس بارے میں اسلام کا حکم اور ا س کا تقاضا کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے بارے میں اپنے دل کو صاف رکھیں۔ اگر کسی کے بارے میں کوئی غلط بات کہی جائے تو محض سننے کی بنیاد پر ہرگز اس کو نہ مانیں۔ یا تو اس کو خوش گمانی پر محمول کرتے ہوئے اپنے ذہن سے نکال دیں۔ اور اگر کسی وجہ سے اس کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنا ضروری ہو تو معاملہ کی پوری تحقیق کریں۔ مکمل تحقیق کے بغیر نہ کوئی رائے بنائیں اور نہ اس کی بنیاد پر کوئی اقدام کریں۔
اسلام کا مطلوب انسان وہ ہے جو دوسروں کے بارے میں اچھی رائے رکھے۔ جس کا سینہ دوسروں کے بارے میں خوش گمانیوں سے بھرا ہوا ہو۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔