پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے جس اخلاق کی تعلیم دی تھی اور جس کو آپ نے اپنی زندگی میں پوری طرح اپنا لیا، اس کا تذکرہ قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے___ اور بے شک تم ایک اعلیٰ اخلاق پر ہو ( وَإِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ) 68:4۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اسلام نہ صرف اخلاق پر تھے بلکہ وہ اعلیٰ اخلاق کا نمونہ تھے، اخلاق اگر سادہ قسم کے اخلاق کا نام ہے تو اعلیٰ اخلاق سے مراد وہ اخلاق ہے جب کہ آدمی دوسروں کے رویہ سے بلند ہو کر عمل کرے۔ اس کا طریقہ یہ نہ ہو کہ برائی کرنے والوں کے ساتھ برائی اور بھلائی کرنے والوں کے ساتھ بھلائی۔ بلکہ وہ ہر ایک کے ساتھ بھلائی کرے، خواہ دوسرے اس کے ساتھ برائی ہی کیوں نہ کر رہے ہوں۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق کے اسی اعلیٰ معیار پر تھے۔ اس طرح آپ نے خود نمونہ بن کر لوگوں کو عملی طور پر بتایا کہ وہ کس طرح اپنی زندگی کو حقیقی معنوں میں بااخلاق بنائیں۔ اس قسم کا کردار کسی شخص کے بارے میں یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ ایک بااصول انسان ہے۔ ایسے آدمی کی شخصیت حالات کی پیداوار نہیں ہوتی بلکہ خود اپنے اعلیٰ اصولوں کی پیداوار ہوتی ہے۔ ایسا اخلاق کسی آدمی کے بارے میں اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ وہ سچا انسان ہے، وہ فطرت کے راستہ پر قائم ہے۔
حدیث میں کثرت سے حسن اخلاق کی تعلیم دی گئی ہے۔ ایک حدیث میں آپ نے فرمایا کہ میں اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ اچھے اخلاق کی تکمیل کروں : إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ(مسند الشہاب القضاعی، حدیث نمبر 1165)۔ اسی طرح آپ نے فرمایا کہ سب سے زیادہ کامل ایمان اس کا ہے جس کا اخلاق سب سے زیادہ اچھا ہو (أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4682)۔آپ نے فرمایا کہ قیامت کے دن میزان میں سب سے افضل چیز اچھا اخلاق ہو گا :إِنَّ أَفْضَلَ شَيْءٍ فِي الْمِيزَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْخُلُقُ الْحَسَنُ (مسند احمد، حدیث نمبر 27496)۔
مومن خدائی بلندیوں میں جینے والا انسان ہوتا ہے۔ اس لیے ہر حال میں وہ ایک بلند کردار انسان بنا رہتا ہے۔ اس کی بلند فکری کسی حال میں ختم نہیں ہوتی، کوئی بھی صورت حال اس کی بلند کرداری کو ختم کرنے والی ثابت نہیں ہوتی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔