اسلام کا اصل نشانہ روحانی ترقی ہے۔ انسان کی روحانیت جاگے، انسان کے اندر چھپی ہوئی ربّانیت بیدار ہو، یہ اسلام کا اصل مقصود ہے۔ قرآن میں اس کو تطہیر اورتزکیہ) التوبة،9:102) کہا گیا ہے۔
اصل یہ ہے کہ ہر انسان پیدائش سے فطرتِ صحیح لے کر پیدا ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے ہر انسان اپنی ابتدائی شخصیت کے اعتبار سے پاک صاف ہی ہوتا ہے۔ مگر دنیا میں زندگی گزارتے ہوئے اس پر خارجی غبار چھا جاتے ہیں۔ اس خارجی غبار سے پاک کرنا اور اپنے آپ کو دوبارہ اپنی فطری حالت پر لے جانا، یہی تطہیر اور تزکیہ ہے۔
تطہیر اور تزکیہ کا یہ عمل آدمی کو خود کرنا پڑتا ہے۔ ایک چھوٹا بچہ اپنے آپ ہی طاہر اور پاک ہوتا ہے۔ مگر اس کی یہ حالت کسی ذاتی کوشش کی بنا پر نہیں ہوتی، بلکہ فطرت کی تخلیق کی بنا پر ہوتی ہے۔ بڑا ہونے کے بعد جب آدمی اپنے آپ کو روحانی اعتبار سے طاہر اور پاک صاف بناتا ہے تو یہ اس کا اپنا عمل ہوتا ہے۔ یہ شعوری طور پر خود اپنے ارادہ اور اپنی کوشش سے اپنے آپ کو روحانی ترقی کے درجہ تک پہنچانا ہے۔ یہی خود حاصل کردہ روحانی ترقی وہ اصل چیز ہے جو اسلام میں مطلوب ہے۔ اسی کو قرآن میں قلب سلیم کہا گیا ہے (26:89) ۔
حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرماتے ہوئے کہا : اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا(صحیح البخاری ،حدیث نمبر 6316)۔یعنی اے اللہ، میرے دل میں نور ڈال دے۔ اسی طرح آپ نے ایک شخص کے بارے میں دعا کرتے ہوئے فرمایا: اللهُمَّ اغْفِرْ ذَنْبَهُ، وَطَهِّرْ قَلْبَهُ(مسند احمد، حدیث نمبر22211)۔ یعنی اے اللہ، اس کے گناہ کو بخش دے، اور اس کے قلب کو پاک کر دے۔ اسی طرح موطا الامام مالک میں حضرت لقمان کا ایک قول اس طرح نقل کیا گیا ہے کہ اللہ دل کو حکمت کے نور سے اسی طرح زندہ کرتا ہے جس طرح وہ مُردہ زمین کو بارش سے زندہ کرتا ہے (إِنَّ اللَّهَ تبارك وتعالى يُحْيِي الْقُلُوبَ بِنُورِ الْحِكْمَةِ، كَمَا يُحْيِي الأََرْضَ الْمَيْتَةَ بِوَابِلِ السَّمَاءِ (موطأ مالك ،اثر نمبر 2117)۔
یہی روحانی ترقی ہے، اور روحانی ترقی ہی اسلام کا اصل مقصود ہے۔ جو آدمی روحانی ترقی سے محروم ہو وہ یقینی طور پر اسلام سے بھی محروم ہو گا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔