اسلام کی تعلیمات کو اپنانے کے بعد آدمی کے اندر جو مزاج بنتا ہے وہ نرمی اور رفق کا مزاج ہے۔ اسلام میں وہ اس حقیقت کو دریافت کرتا ہے کہ خدا بڑا ہے (اللہ اکبر) یہ دریافت اس کو بتاتی ہے کہ بڑائی تو صرف خدا کے لیے ہے، میرے لیے بڑائی نہیں۔ اس طرح اپنے آپ اس کے اندر انکسار اور فروتنی کا مزاج پیدا ہو جاتا ہے۔
تاہم نرمی کے سلوک پر قائم رہنے کی لازمی شرط یہ ہے کہ آدمی کے اندر بے پناہ حد تک برداشت کا مزاج ہو۔ موجودہ دنیا میں بار بار دوسروں کی طرف سے ناخوش گواری کا تجربہ ہوتا ہے۔ اس لیے نرمی کے سلوک پر وہی شخص قائم رہ سکتا ہے جو ردعمل کی نفسیات سے اپنے آپ کو بچا سکے۔ اسی لیے قرآن میں خدا پرست انسان کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ___ غصہ کو پی جانے والے اور لوگوں کو معاف کرنے والے (وَالْكاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعافِينَ عَنِ النَّاسِ)3:134۔
بخاری اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نرم ہے اور ہر معاملہ میں نرمی کو پسند کرتا ہے : إِنَّ اللهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 6927)۔
اسی طرح آپ نے فرمایا: إِنَّ اللهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ، وَيُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ، وَمَا لَا يُعْطِي عَلَى مَا سِوَاهُ(صحیح مسلم، حدیث نمبر 2593)۔ یعنی اللہ نرم ہے اور نرمی کو پسند کرتا ہے۔ وہ نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو سختی پر نہیں دیتا اور نہ کسی دوسری چیز پر۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ: مَنْ يُحْرَمِ الرِّفْقَ يُحْرَمِ الْخَيْرَ كُلَّهُ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4809)۔ یعنی جو شخص نرمی سے محروم ہو وہ تمام بھلائیوں سے محروم ہو جائے گا۔
اگر آپ لوگوں سے معاملہ کرتے ہوئے اکڑ سے کام لیں تو آپ لوگوں کی اَنا کو جگائیں گے۔ اس طرح مسئلہ بڑھے گا۔ پہلے اگر آپ کو کڑوے بول سے سابقہ پیش آیا تھا تو اب آپ لوگوں کے پتھر کو سہنے کے لیے مجبور کر دیے جائیں گے۔ اس کے بجائے اگر آپ معاملات میں نرمی والا طریقہ اختیار کریں تو آپ کا یہ سلوک لوگوں کے ضمیر کو جگائے گا۔ اب معاملہ برعکس ہو گا۔ پہلے اگر کوئی شخص آپ کا مخالف بنا ہوا تھا تو اب وہ مخالفت کو بھول کر آپ کا قریبی دوست بن جائے گا۔ نرمی کامیاب انسان کی صفت ہے اور اکڑ ناکامیاب انسان کی صفت۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔