قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اور ہم نے انسان کو تاکید کی کہ وہ اپنے باپ اور ماں کے ساتھ نیک سلوک کرے (وَوَصَّيْنَا الْإِنْسانَ بِوالِدَيْهِ حُسْناً) 29:8۔قرآن میں کئی مقامات پر اس طرح کی آیتیں ہیں جن میں یہ تاکیدی حکم دیا گیا ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ بہتر سے بہتر سلوک کرے۔ ان کے تمام حقوق ادا کرے۔ حتی کہ اگر وہ اپنی اولاد کو جھڑکیں تب بھی اولاد کو چاہیے کہ وہ ان کی سخت کلامی کا برا اثر نہ لے اور ان کی محبت اور خدمت میں کوئی کمی ہرگز نہ کرے۔ وہ یک طرفہ طور پر ان کے ساتھ حسن سلوک کا پابند رہے۔
حدیث میں ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اس نے کہا کہ اے خدا کے رسولؐ، میرے لیے حسن صحبت کا تمام لوگوں میں سب سے زیادہ حق دار کون ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تمہاری ماں۔ اس نے کہا کہ اس کے بعد کون۔ آپ نے فرمایاں کہ تمہاری ماں۔ اس نے کہا کہ اس کے بعد کون۔ آپ نے فرمایا کہ تمہاری ماں۔ اس نے کہا کہ اس کے بعد کون ۔ آپ نے فرمایا کہ پھر تمہارا باپ :جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم؛ فَقَالَ: مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِي؟ قَالَ: أُمُّكَ. قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ثُمَّ أُمُّكَ. قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ثُمَّ أُمُّكَ. قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ثُمَّ أَبُوكَ(صحیح مسلم، حدیث نمبر 2548 )۔
اس طرح کی بہت سی حدیثیں ہیں جو بتاتی ہیں کہ خدا کے بعد انسان کے اوپر سب سے زیادہ حق ماں اور باپ کا ہے۔ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ کسی انسان پر اس دنیا میں سب سے زیادہ احسان ماں اور باپ کا ہوتا ہے۔ اس لیے ہر انسان پر لازم ہے کہ بڑا ہونے کے بعد وہ ہر طرح اپنے والدین کی خدمت کرے۔ وہ ان کے بڑھاپے میں اسی طرح ان کے کام آئے جس طرح اس کے بچپن میں اس کے والدین اس کے کام آئے تھے۔
دوسرا پہلو یہ کہ آدمی اپنے ماں باپ کی خدمت کر کے اپنے آپ کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ وسیع تر انسانیت کا خدمت گزار بن سکے۔ وہ تمام انسانوں کو محبت کی نظر سے دیکھے۔ وہ تمام انسانوں کی عزت کرنا سیکھے۔ وہ تمام انسانوں کے حقوق ادا کرنے والا بن جائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔