اسلام کی عبادتیں اصلاً خدا کی یاد اور خدا کی پرستش کے لئے ہیں۔ تاہم ان کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ وہ انسانیت کی تعمیر کا ذریعہ بھی بن گئی ہیں۔ اہل اسلام ان عبادتوں کی ادائیگی کے دوران خدا کا حق ادا کرتے ہوئے بندوں کا حق ادا کرنے کی تربیت بھی حاصل کرتے رہتے ہیں۔
نماز خدا کے لیے ذکر و دعا کے ساتھ بندوں کے درمیان مساوات کا ذریعہ بھی بن گئی ہے۔ نماز باجماعت میں روزانہ پانچ بار تمام مسلمان ایک ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر مراسم عبادت ادا کرتے ہیں۔ چھوٹا اور بڑا، امیر اور غریب، بے اقتدا ر ، عالم اور غیر عالم، سب کے سب ایک فرش پر اور ایک صف میں اس طرح کھڑے ہو جاتے ہیں کہ ایک اور دوسرے میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ اس طرح نماز کی عبادت عین اسی وقت مساوات انسانی کا عظیم سبق بھی بن گئی ہے۔
روزہ کے مہینہ میں ہر آدمی صبح سے شام تک مکمل طور پر بھوکا رہتا ہے۔ خواہ وہ کتنا ہی دولت مند ہو مگر روزہ میں اس کو بھی اسی طرح بھوکا رہنا ہے جس طرح کوئی عام آدمی۔ اس طرح روزہ رکھ کر ایک مسلمان جہاں خدا کی عبادت کرتا ہے وہیں وہ ضرورت مند انسانوں کی ضرورت کا بھی ذاتی تجربہ کرتا ہے۔ روزہ آدمی کو خدا کا عبادت گزار بنانے کے ساتھ انسانوں کا غم گسار بھی بنا دیتا ہے۔
زکوٰۃ کی نوعیت بھی واضح طور پر یہی ہے۔ زکوٰۃ کا اصل مقصد مالی عبادت ہے۔زکوٰۃمیں آدمی یہ کرتا ہے کہ وہ خدا کے نام پر اپنی کمائی کا ایک حصہ نکال کر اسے غریبوں اور حاجت مندوں کو دیتا ہے۔ اس طرح زکوٰۃ بیک وقت خدا کی عبادت بھی ہے اور اسی کے ساتھ بندوں کی خدمت گزاری بھی۔ زکوٰۃ کی رقم نکال کر ایک طرف آدمی خدا کے معطی ہونے کا اعتراف کرتا ہے اور دوسری طرف بندوں کے سلسلہ میں وہ اپنی ذمہ داریوں کے احساس کو پختہ کرتا ہے۔
حج بھی اصلاً ایک عبادت ہے۔ مگر حج کے سفر میں حاجیوں کو لڑنے جھگڑنے سے روک دیا گیا ہے۔ حج میں طرح طرح کے لوگوں سے سابقہ پیش آتا ہے۔ لیکن حاجی اس احساس کے تحت لڑائی سے بچتا ہے کہ میرا حج کہیں باطل نہ ہو جائے۔ اس طرح حج خدا کی عبادت کے ساتھ بندوں کے درمیان پرامن زندگی گزارنے کی سالانہ تربیت بھی بن جاتا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.