Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Deen-e-Insaniayat
Deen-e-Insaniayat

خدا اور انسان

Urdu · 4 min

ابو مسعود انصاری مدینہ کے ایک مسلمان تھے۔ ایک روز وہ کسی بات پر اپنے غلام سے بگڑ گئے اور اس کو ڈنڈے سے مارنے لگے۔ عین اس وقت رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کا ادھر سے گزر ہوا۔ آپ نے دیکھ کر فرمایا کہ اے ابو مسعود، جان لو کہ خدا تمہارے اوپر اس سے زیادہ قابو رکھتا ہے جتنا تم اس غلام پر قابو رکھتے ہو (اعْلَمْ ‌أَبَا ‌مَسْعُودٍ، ‌لَلَّهُ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَيْهِ) یہ سنتے ہی ابو مسعود کے ہاتھ سے ڈنڈا چھوٹ کر گر گیا۔ اور انھوں نے کہا کہ آج سے یہ غلام آزاد ہے۔ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1659)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ابو مسعود پہلے معاملہ کو ایک انسان اور دوسرے انسان کا معاملہ سمجھتے تھے۔ اس وقت انھیں نظر آتا تھا کہ وہ مالک ہیں اور دوسرا آدمی غلام۔ اپنی ذات انھیں اونچی سطح پر نظر آئی اور غلام کی ذات نیچی سطح پر۔ مگر رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کی تنبیہہ کے بعد انھیں نظر آیا کہ سارا معاملہ خدا کا معاملہ ہے۔ اب انھیں اپنا وجود بھی وہیں پڑا ہوا نظر آیا جہاں وہ اپنے غلام کو بٹھائے ہوئے تھے۔ دونوں یکساں طور پر خدا کے آگے عاجز نظر آئے۔ یہی وجہ تھی کہ اٹھا ہوا ڈنڈا ان کے ہاتھ سے چھوٹ کر گر پڑا۔

حقیقت یہ ہے کہ سماجی زندگی کی تمام خرابیاں اسی لئے پیدا ہوتی ہیں کہ آدمی معاملہ کو انسان کی نسبت سے دیکھتا ہے نہ کہ خدا کی نسبت سے۔ ایک آدمی کو دولت مل جائے تو وہ ان لوگوں کے مقابلہ میں اپنے کو اونچا سمجھنے لگتا ہے جن کے پاس دولت نہیں۔ حالانکہ اگر وہ خدا کی نسبت سے دیکھے تو اس کو نظر آئے گا کہ وہ بھی اتنا ہی مفلس ہے جتنا کوئی دوسرا شخص۔ کسی آدمی کو بڑا عہدہ مل جائے تو وہ سمجھنے لگتا ہے کہ میں تمام لوگوں سے بڑا ہوں۔ حالانکہ اگر وہ خدا کی نسبت سے دیکھے تو وہ پائے گا کہ وہ بھی اتنا ہی حقیر ہے جتنا کہ دوسرے لوگ۔ ایک آدمی تیز ہے اور وہ دوسرے آدمی کے خلاف زبان چلا رہا ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ اپنے مقابلہ میں وہ اس کو کمتر سمجھ رہا ہے۔ اگر وہ خدا کی نسبت سے دیکھے تو اس کے الفاظ کا ذخیرہ ختم ہو جائے کیونکہ خدا کی نسبت سے وہ بھی اتنا ہی بے زور ہے جتنا کہ دوسرا آدمی۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اسلام وہ انسان بناتا ہے جو معاملات کو ایک آدمی اور دوسرے آدمی کا معاملہ نہ سمجھے۔ بلکہ ہر معاملہ کو ایسا معاملہ سمجھے جو آخر کار خدا کے سامنے پیش ہونے والا ہے۔ یہ چیز تمام برائیوں کی جڑ کاٹ دیتی ہے۔ اس کے بعد کسی کے لیے گھمنڈ، حسد، جاہ پسندی اور بے انصافی کا موقع ہی باقی نہیں رہتا۔ اس کے بعد اس کا ’’ڈنڈا‘‘ اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گر پڑتا ہے، بجائے اس کے کہ وہ کسی دوسرے آدمی کے سر کے اوپر پڑے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content