قرآن میں بار بار عمل صالح کا حکم دیا گیا ہے۔ مثلاً سورہ النحل میں فرمایا کہ جو شخص صالح عمل کرے، خواہ وہ مرد ہو یا عورت تو ہم اس کو زندگی دیں گے، ایک اچھی زندگی۔ اور جو کچھ وہ کرتے رہے اس کا ہم ان کو بہترین بدلہ دیں گے (مَنْ عَمِلَ صالِحاً مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَياةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ ما كانُوا يَعْمَلُونَ (16:97)۔
صالح کا مطلب ہے درست، نیک ، ٹھیک۔ عربی میں کہا جاتا ہے ھُو صالح’‘ بکذا۔ یعنی اس کے اندر یہ صلاحیت ہے کہ فلاں کام کو عمدگی کے ساتھ کر سکے۔ صلح فی عملہ کا مطلب ہوتا ہے کام میں درست ہونا۔ صلاح دراصل فساد کا ضد ہے۔ ہر عمل جو غلط ہو وہ عملِ فاسد ہے۔ اسی طرح ہر عمل جو صحیح اور درست ہو وہ عملِ صالح ہے۔
عملِ صالح کا تعلق انسانی زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ آدمی لوگوں کے ساتھ موجودہ دنیا میں اس طرح رہے کہ اس کا ہر عمل صالح عمل ہو۔گھر سے لے کر باہر تک اس کا کوئی بھی عمل صالح روش سے ہٹا ہوا نہ ہو۔ اس اعتبار سے پوری شریعت عمل صالح کی شریعت ہے۔ شریعت اسلامی کے تمام احکام دراصل یہ بتانے کے لیے ہیں کہ کس معاملے میں کون سی روش صالح روش ہے، اور کون سی روش صالح روش نہیں۔
مثلاً سچ صالح قول ہے اور جھوٹ غیر صالح قول۔ انصاف صالح عمل ہے اور ظلم غیر صالح عمل۔ محبت صالح کیفیت ہے اور نفرت غیر صالح کیفیت۔ امن صالح حالت ہے اور بدامنی غیر صالح حالت۔ خیر خواہی ہی صالح جذبہ ہے اور بدخواہی غیر صالح جذبہ۔ امانت داری صالح فعل ہے اور خیانت غیر صالح فعل۔ حقوق کی ادائیگی صالح روش ہے اور حق تلفی غیر صالح روش۔ وغیرہ۔
خدا کا پسندیدہ عمل وہی ہے جو صالح عمل ہو، ایسے ہی لوگوں کے لیے خدا کا انعام ہے۔ جو عمل غیر صالح ہو وہ خدا کا مقبول اور پسندیدہ عمل نہیں۔ اس دنیا میں صرف صالح بیج اگتا ہے اور سرسبز و شاداب ہوتا ہے۔ اسی طرح اس دنیا میں صرف صالح انسان ترقی کرتا ہے۔ غیر صالح انسان کے لیے خدا کی اس دنیا میں نہ کوئی ترقی ہے اور نہ کوئی کامیابی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔