Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Deen-e-Insaniayat
Deen-e-Insaniayat

فرقہ بندی

Urdu · 4 min read

مشہور روایت کے مطابق ، رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنو اسرائیل کے لوگ بہتّر فرقوں میں بٹ گئے اور میری امت کے لوگ تہتّر فرقوں میں بٹ جائیں گے۔ سب کے سب آگ میں جائیں گے سوا ایک کے (كُلُّهُمْ فِي النَّارِ ‌إِلَّا ‌مِلَّةً ‌وَاحِدَةً)۔پوچھا گیا کہ اے خدا کے رسولؓ، یہ ایک کون ہے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ طریقہ جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں (مَا ‌أَنَا ‌عَلَيْهِ ‌وَأَصْحَابِي) سنن الترمذی، حدیث نمبر 2641۔

hadithQuotes a hadith

علماء اسلام نے ’’72 ‘‘ گمراہ فرقوں کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی ہے۔ مثلاً سید عبدالقادر جیلانیؒ نے غُنیتہ الطالبین میں اس پر تفصیلی بحث کی ہے اور نام بنام ان کا ذکر کیا ہے۔ مثلاً خارجیہ، شیعہ، معتزلہ، مرجیہ، مشیہ، جھمیہ، ضراریہ، کلابیہ، وغیرہ۔ پھر ہر فرقے کے ذیلی فرقے۔ اس طرح انھوں نے اس تعداد کو بہتر اور تہتر تک پہنچا دیا ہے۔ اگرچہ ان میں سے بیشتر فرقے اب صرف کتابوں میں ہیں، عملی دنیا میں ان کا کہیں وجود نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

تاہم ان تاریخی فرقوں کی اہمیت یاعتبار حصر نہیں ہے بلکہ باعتبار علامت ہے۔ یعنی وہ علامتی طور پر بتاتے ہیں کہ امت میں جب گمراہی آئے گی تو وہ کس طرح اور کس راستہ سے آئے گی۔ ان فرقوں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ تمام گمراہ فرقے اعتقادیات میں غیر ضروری خوض کے نتیجہ میں پیدا ہوئے۔ اور یہی ان کی اصل گمراہی تھی۔ غور و فکر اسلام میں مطلوب ہے۔ حتی کہ قرآن کے نزول کا مقصد ہی تدبر بتایا گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ صحیح تدبر آدمی کی معرفتِ حق میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کے برعکس منحرفانہ تدبر ذہنی انتشار پیدا کرتا ہے، اور آخرکار گمراہی کے گڑھے میں گرا دیتا ہے۔

عقائد کا تعلق امور غیب سے ہے۔ غیب کے بارے میں آدمی براہ راست علم حاصل نہیں کر سکتا، اس لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس معاملہ میں اتنے ہی پر قناعت کیا جائے جو بتا دیا گیا ہے (أَبْهِمُوا ‌مَا ‌أَبْهَمَهُ ‌اللَّه) اور نامعلوم کے دائرہ میں خیال آرائی کی کوشش نہ کی جائے۔ یہی اس معاملہ میں اصحاب رسول کا طریقہ تھا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جو آدمی اپنی غور و فکر کو معلوم کے دائرہ میں استعمال کرے وہ ماانا علیہ و اصحابی کا مصداق ہے ، اور جو آدمی غیر معلوم یا ممنوعہ دائرہ میں خوض کرنے لگے وہ ہدایت کے دائرہ سے نکل گیا۔

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ: وہ اللہ ہے جس نے تمہارے اوپر کتاب اتاری۔ اس میں کچھ آیتیں محکم ہیں، وہ کتاب کی اصل ہیں۔ اور دوسری آیتیں متشابہ ہیں۔ پس جن کے دلوں میں ٹیڑھ ہے وہ متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑ جاتے ہیں، فتنہ کی تلاش میں اور اس کی تاویل کی تلاش میں۔ حالاں کہ ان کی تاویل اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور جو لوگ پختہ علم والے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم ان پر ایمان لائے، سب ہمارے رب کی طرف سے ہے۔ اور نصیحت وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں (3:7)

Qur'anQuotes the Qur'an

یہ آیت بتاتی ہے کہ غلط قسم کا غور و فکر کیا ہے۔ اور وہ کون سا غور و فکر ہے جو آدمی کو ہدایت کی طرف لے جانے والا ہے۔ اس آیت میں متشابہات سے مراد متماثلات ہے۔ یعنی تمثیلی اسلوب کلام۔ وہ باتیں جن کا تعلق غیبی حقیقتوں سے ہے ان کو قرآن میں تمثیل کی زبان میں بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً خدا کا ہاتھ تمثیل کی زبان ہے نہ کہ حقیقت کی زبان۔ اس طرح کی باتوں کو آدمی تعیین و تحدید کے ساتھ نہیں سمجھ سکتا۔ اس لیے ان معاملات میں صحیح یہ ہے کہ مجمل علم پر قناعت کی جائے۔ اس سے زیادہ جاننے کی کوشش آدمی کو صرف فکری انتشار (confusion) تک پہنچائے گی۔ اور فکری انتشار ہی کے اگلے نتیجہ کا نام گمراہی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

محکم سے مراد وہ آیتیں ہیں جو براہ راست زبان میں ہیں اور جن سے قطعی دلالت حاصل ہوتی ہے۔ یہ معلوم انسانی دائرہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان میں سنجیدہ غور و فکر سے آدمی کے علم و یقین میں اضافہ ہوتا ہے۔ وہ ہدایت کے راستہ پر بڑھتا چلا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر جبر و قدر کا جو مسئلہ ہے وہ پورا کا پورا متشابہات سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کے بارے میں مجمل علم پر قانع رہنا ہی عقل کا تقاضا بھی ہے اور شریعت کا تقاضا بھی۔ اور یہی عین سائنسی نقطۂ ہے۔

دوسری چیز وہ ہے جو عالم فطرت سے تعلق رکھتی ہے۔ یعنی زمین و آسمان میں پھیلی ہوئی نشانیوں پر غور کرنا۔ یہ غور و فکر عین مطلوب ہے۔ اس قسم کا غور و فکر آدمی کے یقین کو بڑھاتا ہے۔ اس کی روحانیت کو غذا فراہم کرتا ہے۔ اس کی شخصیت کو ربانی شخصیت بناتا ہے۔ اس کو وہ اعلیٰ انسان بنا دیتا ہے جس کو عام زبان میں حقیقت شناس اور مذہبی زبان میں خدا شناس کہا جاتا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content