مولانا محمود حسن دیوبندی (1851-1920)تحریک خلافت کے پرجوش حامیوں میں سے تھے۔ ان کے شاگرد مولانا اشرف علی تھانوی (1963-1943) تحریک خلافت کے مخالف تھے۔ وہ اس تحریک پر کھلم کھلا تنقید کرتے تھے۔ مگر استاد نے اپنے شاگرد کی اس ’’گستاخی‘‘ کو کبھی برا نہیں مانا۔ دونوں کے درمیان آخر وقت تک مخلصانہ تعلق باقی رہا۔
مولانا اشرف علی تھانوی ایک گفتگو کے ذیل میں اپنے استاد اور شیخ کے بارے میں کہتے ہیں ’’حضرت کے قلب پر میرے اختلاف سے ذرہ برابر بھی گرانی نہ تھی۔ ایک مرتبہ تحریک خلافت کے زمانہ میں حضرت کی بیٹھک میں کچھ لوگ بیٹھے ہوئے میرے متعلق برے بھلے الفاظ کہہ رہے تھے۔ کچھ الفاظ حضرت کے کانوں میں پڑ گئے۔ باہر تشریف لے آئے۔ بہت خفا ہوئے اور یہ فرمایا کہ خبردار ، جو آئندہ ایسے الفاظ کبھی استعمال کئے۔ اور یہ فرمایا کہ میرے پاس کیا وحی آتی ہے کہ جو کچھ میں کر رہا ہوں وہ سب ٹھیک ہے۔ میری بھی ایک رائے ہے، اس کی بھی ایک رائے ہے۔ ایک مرتبہ حضرت نے یہ فرمایا کہ ہمیں تو اس پر فخر ہے کہ جو شخص تمام ہندستان سے بھی متاثر نہ ہوا اور کسی کی بھی پروا نہ کی وہ بھی ہماری ہی جماعت سے ہے۔‘‘ (ملفوظات حکیم الامت، مولانا اشرف علی تھانوی، ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان، صفحہ 114)
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اختلاف کے معاملہ میں علماء امت کا طریقہ کیا ہونا چاہئے۔ اس طرح کے اختلافات میں وہی روح کارفرما ہونی چاہئے جس کو امام شافعی نے ان لفظوں میں بیان کیا ہے:میری رائے درست ہے، مگر احتمالِ خطا کے ساتھ، دوسرے کی رائے غلط ہے مگر احتمال صحت کے ساتھ۔ (رَأْيِي صَوَابٌ يَحْتَمِلُ الْخَطَأَ، وَرَأْيُ غَيْرِي خَطَأٌ يَحْتَمِلُ الصَّوَابَ(یہ اختلافات عام طور پر اجتہادی امور میں ہوتے ہیں اور اجتہادی امور میں ہمیشہ ایک سے زیادہ رائے کی گنجائش ہوتی ہے۔ اس لئے صحیح ترین مسلک یہ ہے کہ آدمی اختلاف کے باوجود اپنے آپ کو فریق ثانی کی نفرت سے بچائے۔ وہ اپنے نقطۂ نظر کو شدت کے ساتھ پیش کرے، اس کے باوجود اس کی نفسیات یہ ہو کہ یہ معاملہ 50 فیصد اور 50 فیصد کا ہے، نہ کہ صد فی صد کا۔
دین انسانیت
اسلام کی اخلاقی اور انسانی تعلیمات
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔