حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ حقیقی عالم وہ ہے جو لوگوں کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہ کرے: إِنَّ الْفَقِيهَ حَقَّ الْفَقِيهِ، مَنْ لَمْ يُقَنِّطِ النَّاسَ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ (مسند الدارمی، اثر نمبر305)۔ یہ ایک نہایت بامعنی قول ہے اور اس کے بہت سے پہلو ہیں۔
اس قول کا ایک مطلب یہ ہے کہ وعظ و نصیحت کی مجلس میں جب عام لوگوں کو نیک عملی کی تلقین کی جائے تو ایسا معیار ان کے سامنے نہ رکھا جائے کہ وہ سمجھنے لگیں کہ دین پر عمل کرنا ان کے بس میں نہیں ہے، اور وہ خدا کی رحمت سے مایوس ہو جائیں۔ اس کے بجائے بات کو اس طرح کہا جائے کہ اس میں ترغیب و تشویق کا پہلو نمایاں ہو، جس کو سن کر لوگوں کے اندر عمل کا حوصلہ پیدا ہو۔
اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ روزمرہ کے معاملات میں لوگوں کو جو رہ نمائی دی جائے اس میں شدت کے طریقہ سے پرہیز کیا جائے۔ کم علمی سے شدت پسندی پیدا ہوتی ہے۔ مگر جو آدمی گہرا علم رکھتا ہو اس کی نظر وسیع ہو گی۔ اس بنا پر وہ ایسی بات کہے گا جس میں رعایت اور سہولت کا پہلو نظرانداز نہ ہونے پائے۔ جس میں خدا کا دین ہر آدمی کو قابل عمل دکھائی دینے لگے۔
اسی طرح اس قول کا ایک پہلو وہ ہے جو وسیع تر حالات سے تعلق رکھتا ہے۔ مقابلہ کی اس دنیا میں جب ایک قوم دوسری قوم پر غالب آ جائے۔ جب ایک گروہ دوسرے گروہ کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھ جائے۔ یہاں تک کہ قومی زندگی میں نئے نئے مسائل پیدا ہو جائیں۔ اس وقت کم علم آدمی ظاہر حالات کو دیکھ کر شکایت اور احتجاج کی زبان بولنے لگے گا۔ وہ سازش اور ظلم کا انکشاف کر کے لوگوں کو محرومی اور مظلومی کے احساس میں مبتلا کر دے گا۔
لیکن جو شخص گہرا علم رکھتا ہو وہ زیادہ گہرائی کے ساتھ حالات کا جائزہ لے گا ، وہ حقائق کو زیادہ دور تک دیکھنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ ایسا شخص تاریکی میں روشنی کے امکانات کو دریافت کرے گا۔ چنانچہ وہ لوگوں کو عسر میں یسر کی خبر دے گا۔ وہ مسائل کے درمیان مواقع کی نشاندہی کرے گا۔ وہ لوگوں کے اندر امید اور حوصلہ پیدا کرے گا، کیوں کہ وہ بتائے گا کہ تم کس طرح اپنے مائنس (نہیں) کو دوبارہ پلَس (ہے) میں تبدیل کر سکتے ہو۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔