قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ___ اللہ نے تمہاری طرف ایک نصیحت اتاری ہے، ایک رسول جو تم کو اللہ کی کھلی کھلی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے تاکہ ان لوگوں کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف نکالے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیا۔ اور جو شخص اللہ پر ایمان لایا اور نیک عمل کیا اس کو وہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ نے اس کو بہت اچھی روزی دی (65:11)۔ پیغمبر کی ہدایت کو اس آیت میں تاریکی سے نکال کر روشنی میں لانا کہا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے، غلط فکری کی حالت سے نکال کر صحیح فکر کے مرحلہ میں پہنچانا۔
انسان پیدائشی طور پر حقیقت کو جاننا چاہتا ہے۔ مگر انسان کی عقل محدود ہے۔ اپنی اس محدودیت کی بنا پر کوئی شخص حقیقت کا پورا احاطہ نہیں کر پاتا، اس لیے وہ مستقل طور پر بے یقینی کی حالت میں مبتلا رہتا ہے۔ پیغمبر کی ہدایت آدمی کو اس حالت سے نکالتی ہے۔ وہ آدمی کو کامل یقین کے دور میں پہنچاتی ہے۔
ہر آدمی یہ چاہتا ہے کہ اس کی زندگی بہتر انجام تک پہنچے۔ مگر انسان جب کوشش شروع کرتا ہے تو اپنی کامیابی کی آخری حد پر پہنچ کر وہ صرف یہ دریافت کرتا ہے کہ جو کچھ میں چاہتا ہوں وہ اس دنیا میں کبھی ملنے والا نہیں۔ یہاں پیغمبر کی ہدایت اس کے لیے تاریکی میں روشنی بن کر ظاہر ہوتی ہے۔ وہ اس کو صحیح سوچ اور صحیح عمل کا راستہ دکھاتی ہے۔
موجودہ دنیا میں سب سے اہم چیز صحیح طرز فکر ہے ، موت سے پہلے کی زندگی کے بارے میں بھی، اور موت کے بعد کی زندگی کے بارے میں بھی۔ مگر موجودہ دنیا بے شمار چیزوں کا ایک جنگل ہے۔ یہاں اَن گنت آوازیں بیک وقت گونج رہی ہیں۔ ایسی حالت میں کسی انسان کے لیے یہ مشکل ترین امر ہے کہ وہ فکر کے صحیح سرے کو دریافت کرے اور اس پر یقین کے ساتھ جم جائے۔
پیغمبر کی رہنمائی یہاں انسان کی مدد کرتی ہے۔ وہ انسان کو سوچ کا وہ صحیح سرا دیتی ہے جہاں سے وہ اپنے لیے صحیح نقطۂ آغاز پا لے۔ اور صحیح نقطۂ آغاز کو پا لینا ہی اس دنیا میں حقیقی منزل تک پہنچنے کی سب سے زیادہ یقینی ضمانت ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔