Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Deen-e-Insaniayat
Deen-e-Insaniayat

جارحیت نہیں

Urdu · 6 min

خدا نے انسان کو آزاد پیدا کیا ہے۔ اس لیے انسان خود اپنی فطرت کے تحت یہ چاہتا ہے کہ وہ آزادانہ طور پر سوچے اور آزادانہ طور پر اظہار خیال کرے۔ انسانی فطرت کی یہ ایسی خصوصیت ہے جس کو کسی طرح بھی انسان سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔

اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر انسان ایک منفرد وجود ہے۔ ہر انسان کا طرز فکر دوسرے تمام انسانوں سے جدا ہے۔ اس لیے یہ ناممکن ہے کہ تمام لوگ ایک ڈھنگ پر سوچنے لگیں۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اختلاف ایک تقاضائے فطرت ہے، ایسی حالت میں انسانوں کے درمیان اختلاف کو ختم کرنا ممکن نہیں۔ انسان کے بارے میں صحیح اور ممکن رویہ صرف یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے مقابلہ میں تحمل کا طریقہ اختیار کریں۔ اس دنیا میں جو شخص جتنا زیادہ متحمل ہو گا اتنا ہی زیادہ وہ کامیاب ہو گا۔

مورخین اسلام اس پر متفق ہیں کہ عملی اعتبار سے حضرت امیر معاویہؓ ایک نہایت کامیاب حکمراں تھے۔ ان کی کامیابی کا راز یہ نہیں تھا کہ انھوں نے اپنی زیر حکم دنیا میں اختلاف کو مٹا دیا تھا۔ اس کے بجائے ان کی کامیابی کا راز وہ تھا جس کو ایک مورخ نے ’’الحلم السیاسی‘‘ کا نام دیا ہے۔ وہ انتہائی غیر موافق بات کو انتہائی تحمل کے ساتھ سن سکتے تھے۔ ابن قتیبہ نے ان کا ایک واقعہ ان الفاظ میں نقل کیا ہے:(أَغْلَظَ رَجُلٌ لِمُعَاوِيَةَ فَحَلُمَ عَنْهُ، فَقِيلَ لَهُ: تَحْلُمُ عَنْ هَذَا! فَقَالَ: إِنِّي لَا أَحُولُ بَيْنَ النَّاسِ وَبَيْنَ أَلْسِنَتِهِمْ مَا لَمْ يَحُولُوا بَيْنَنَا وَبَيْنَ سُلْطَانِنَا (عیون الاخبار لابن قتیبۃ الدينوري،جلد 1،صفحہ397(۔یعنی، ایک شخص نے امیر معاویہ سے سخت کلامی کی۔ انھوں نے اس سے درگز کیا۔ ان سے کہا گیا کہ آپ ایسے آدمی سے درگزر کا معاملہ کر رہے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا کہ میں لوگوں کے درمیان اور ان کی زبان کے درمیان حائل نہیں ہوتا جب تک وہ ہمارے درمیان اور ہماری سلطنت کے درمیان حائل نہ ہوں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس تحمل کا تعلق صرف سلطنت یا سیاسی اقتدار سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ ہر آدمی کی اپنی ایک دنیا ہوتی ہے، خواہ وہ سیاسی دائرہ میں ہو یا غیر سیاسی دائرہ میں، آپ انسان کی اس دنیا کو ٹھوکر نہ ماریں۔ بلکہ اپنا اختلاف تمام تر صرف دلائل پیش کرنے تک محدود رکھیں، اگر آپ ایسا کریں تو معاشرہ میں کوئی خلل واقع نہ ہو گا۔ البتہ اختلاف اس وقت خلل اندازی کے ہم معنی بن جاتا ہے جب آپ آدمی کی اپنی مخصوص دنیا کے ساتھ تصادم چھیڑ دیں۔

اختلاف کا صحیح اور فطری اصول یہ ہے کہ اختلاف کو صرف اختلاف کے دائرہ میں رکھا جائے، اس کو تصادم یا عملی جارحیت کے درجہ تک ہرگز پہنچنے نہ دیا جائے۔

ایک حاکم کے لیے عملی جارحیت یہ ہے کہ اختلاف کرنے والا نظری اختلاف کی حد سے گزر کر اس کے اقتدار سے ٹکرانا شروع کر دے۔ وہ اس کے قلب و دماغ کو مخاطب کرنے کے بجائے اس کے سیاسی وجود کو مٹانے پر تل جائے۔

ایک عام انسان کے لیے عملی جارحیت یہ ہے کہ آدمی سنجیدہ اختلاف کی حد پر نہ رکے بلکہ اس سے آگے بڑھ کر وہ زیر اختلاف شخص کی ذات کو مطعون کرنے لگے۔ وہ اس کی تذلیل و تحقیر کرے۔ وہ اس کو بدنام کرنے کی مہم چلائے۔ اس کی حیثیت عرفی کو بگاڑنے کی کوشش کرے۔ لوگوں میں اس کے خلاف نفرت پیدا کرے۔ اس کے اخلاقی قتل کی مہم چلائے۔ سازشی منصوبہ کے ذریعہ وہ اس کی تدبیر کرے کہ اس کے سماجی تعلقات ٹوٹ جائیں اور وہ اپنے ماحول میں اکیلا ہو کر رہ جائے۔

عملی جارحیت کیا ہے، اس کا تعین ہر آدمی کے اپنے حالات کے لحاظ سے کیا جائے گا اصولی طور پر عملی جارحیت یہ ہے کہ آدمی کے دماغ سے اپیل کرنے کے بجائے خود اس کے وجود سے تصادم شروع کر دیا جائے۔ اس کو سنجیدہ دلائل سے قائل کرنے کی بجائے غیر سنجیدہ طریقوں سے اسے زیر کرنے کی کوشش کی جائے۔

آزادی ہر انسان کا فطری حق ہے۔ مگر اس حق کو استعمال کرنے کی لازمی شرط یہ ہے کہ آدمی اپنی آزادی کو تشدد اور جارحیت تک نہ لے جائے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content