Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Deen-e-Insaniayat
Deen-e-Insaniayat

بے جا غلو

Urdu · 7 min

قرآن میں رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ___امید ہے کہ تمہارا رب تم کو مقام محمود پر کھڑا کرے (عَسى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقاماً مَحْمُوداً) 17:79 ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

بغداد میں 317 ھ میں اس آیت پر دو مسلم گروہوں کے درمیان بحث ہوئی۔ ایک طرف ابوبکر المروذی الحنبلی کے اصحاب تھے، اور دوسری طرف عوام کا ایک طبقہ۔ حنابلہ نے اس آیت کی تفسیر میں کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ قیامت کے دن آپؐ کو عرش کے اوپر بٹھائے گا۔ دوسرے گروہ کا کہنا تھا کہ اس سے مراد شفاعت عظمیٰ ہے۔ یہ اختلاف اتنا بڑھا کہ دونوں گروہوں میں باقاعدہ جنگ ہو گئی جس میں بہت سے لوگ ہلاک ہو گئے (البدایہ والنہایہ لابن کثیر، جلد 11، صفحہ 162 )۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس قسم کے واقعات پہلے بھی بار بار پیش آئے اور آج بھی ایسے واقعات کثرت سے پیش آ رہے ہیں۔ ان کو دیکھ کر کچھ لوگ یہ کہنے لگے ہیں کہ بحث و اختلاف بذاتِ خود غلط ہے۔ اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ وہ صرف مقلد بن کر رہیں۔ کسی بھی قسم کی اختلافی بحث میں نہ پڑیں۔ یہ مشورہ ایک غلطی پر دوسری غلطی کا اضافہ ہے۔ مشورہ دینے والوں کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو اختلاف کا صحیح طریقہ بتائیں نہ یہ کہ خود اختلاف کو بند کرنے کا مطالبہ کریں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مذکورہ افسوس ناک واقعہ اس لیے ہوا کہ انھوں نے علمی اختلاف اور جنگی ٹکراؤ کے فرق کو نہیں سمجھا۔ علمی اختلاف کا اول و آخر ہتھیار دلیل ہے، اور جنگی ٹکراؤ کا ہتھیار تلوار اور بندوق ہے۔ اگر جنگی ٹکراؤ پیش آ جائے تو متشددانہ اسلحہ کا استعمال ایک ناگزیر ضرورت ہو گا۔ کیوں کہ جنگی ٹکراؤ میں فیصلہ کن چیز ہمیشہ ہتھیار ہی رہا ہے۔

مگر علمی اختلاف کا معاملہ سراسر مختلف ہے۔ اس میں ہتھیاروں کا استعمال صرف ایک قسم کا پاگل پن ہے۔ کیوں کہ علمی اختلاف میں اصل اہمیت کی چیز دلیل ہوتی ہے نہ کہ تشدد ۔ فریق ثانی اگر ایک دلیل کو نہیں مانتا تو اس کے سامنے دوسری دلیل پیش کیجئے۔ دوسری دلیل سے بھی مطمئن نہیں ہوتا تو تیسری اور چوتھی دلیل پیش کیجئے۔ علمی بحث میں ہمیشہ صرف دلیل پیش کی جائے، خواہ کوئی اسے مانے یا ماننے سے انکار کر دے۔

مذکورہ واقعہ سے جو چیز غلط یا قابل ترک قرار پاتی ہے وہ تنقید اور اختلاف نہیں ہے۔ بلکہ غلو اور شدت پسندی ہے، اور غلو ہر معاملہ میں برا ہے۔

تنقید کو بند کرو، اختلاف رائے کو ختم کرو، تاکہ امت میں اتحاد ہو سکے___ یہ جملہ قواعد کے اعتبار سے درست ہے، مگر وہ حقیقت کے اعتبار سے بالکل بے معنی ہے۔ کیوں کہ تنقید و اختلاف انسانی زندگی کا لازمی حصہ ہے، اس لئے وہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔ زیادہ صحیح اور قابل عمل بات یہ ہے کہ تنقید کو گوارا کرو، اختلاف رائے کو برداشت کرو تاکہ امت میں اتحاد ہو سکے۔ کسی قوم میں اتحاد ہمیشہ اسی دوسرے اصول کی بنیادی پر ہوتا ہے، اور امت مسلمہ میں بھی اتحاد اسی بنیاد پر ہو گا۔ اس کے سوا اتحاد کی دوسری کوئی صورت نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

صحابہ و تابعین کے درمیان اختلافات تھے۔ اسی طرح محدثین، فقہاء ، علماء ، صوفیاء سب کے درمیان کثرت سے اختلافات تھے۔ حتیژ کہ قرآن سے ثابت ہے کہ دنیا میں بیک وقت دو پیغمبر ہوں تو ان کے درمیان بھی کبھی اختلاف ہو جاتا ہے۔ ایسی حالت میں اختلاف کو ختم کرکے اتحاد قائم کرنے کی شرط نہ صرف غیر فطری ہے بلکہ وہ غیر شرعی بھی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

تنقید و اختلاف کوئی برائی نہیں۔ وہ فکری ارتقاء کا ذریعہ بنتی ہے۔ مثال کے طور پر غزوۂ بدر کے موقع پر ایک صحابی نے پیغمبر سے اختلاف کیا۔ اس کے نتیجہ میں زیادہ بہتر میدان جنگ کا انتخاب ممکن ہو گیا۔ وغیرہ۔

اصل یہ ہے کہ انسان دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک طالب خویش اور دوسرا طالب حق۔ طالب خویش اپنی ذات میں جیتا ہے۔ اس کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ اس کی اپنی شخصیت نمایاں ہو۔ اس کی بڑائی تسلیم کی جائے۔ یہی وہ آدمی ہے جو تنقید و اختلاف سے بھڑکتا ہے۔ کیوں کہ وہ محسوس کرتا ہے کہ تنقید اس کی شخصی عظمت کو گھٹا رہی ہے۔

طالب حق کی نفسیات اس سے بالکل جدا ہوتی ہے۔ وہ صرف حق کا طالب ہوتا ہے۔ وہ تنقید کو اپنی ذات پر حملہ نہیں سمجھتا۔ وہ تنقید کو صرف اس نظر سے دیکھتا ہے کہ وہ حق ہے یا ناحق۔ تنقید اگر غلط ہے تو وہ سادہ طور پر اسے نظرانداز کر دیتا ہے۔ لیکن تنقید اگر برحق ہے تو وہ فوراً اس کو قبول کر لے گا۔ کیونکہ ایسی تنقید میں اس کو عین وہی چیز ملتی ہوئی نظر آئی جو پہلے سے اس کا مطلوب و مقصود تھی۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content