← Deen-e-InsaniayatDeen-e-Insaniayat
اضافۂ ایمان
Urdu · 6 min
ایمان کوئی جامد چیز نہیں اور نہ کسی مجموعۂ الفاظ کو زبان سے دُہرا لینے کا نام ایمان ہے۔ لفظی مجموعہ ایمان کی ظاہری علامت ہے نہ کہ خود لفظی مجموعہ ہی اصل ایمان ہے۔ تمام اعلیٰ حقیقتوں کی اہمیت ان کے معنوی پہلو کے اعتبار سے ہوتی ہے، پھر ایمان جیسی اعلیٰ ترین حقیقت کی اہمیت اس کے الفاظ تک کیوں کر محدود ہو جائے گی۔
ایمان حقیقتِ اعلیٰ کی دریافت ہے۔ ایمان علوم کے سرے کو پکڑنا ہے۔ ایمان معانی کے سمندر میں داخل ہونا ہے۔ ایمان اپنی محدودیت کو لامحدود کے درجہ تک لے جانا ہے۔ ایمان زمینی پستیوں سے اٹھ کر آسمانی بلندیوں تک پہنچ جانا ہے۔ ایمان یہ ہے کہ آدمی ایک ایسے روحانی سفر کا مسافر بن جائے جہاں ہر آن نیا تجربہ ہے۔ وہ ایک ایسا شعوری ارتقاء ہے جس کا سلسلہ کبھی اور کہیں ختم نہیں ہوتا۔ چنانچہ قرآن میں ایمان کو ایک ارتقاء پذیر حقیقت بتایا گیا ہے، ایک ایسا قلبی سرمایہ جس میں ہمیشہ اضافہ ہوتا رہے (الفتح 48:4 ) ایمان ایک اعلیٰ ترین علم ہے جو ہمیشہ اللہ کی توفیق سے بڑھتا رہتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ایمان میں یہ زیادتی کس طرح ہوتی ہے۔ اس کا پہلا ذریعہ تفکر و تدبر ہے۔ انسان خدا کی باتوں کو پڑھتا ہے۔ وہ خدا کی چیزوں میں غور کرتا ہے (آل عمران،3:191 ) اس طرح حق و صداقت کی نئی نئی تجلیاں اس پر منکشف ہوتی ہیں۔ پھر وہ اہل ذوق کے ساتھ ان پر مذاکرہ کرتا ہے، جیسا کہ عمر فاروقؓ نے کہا تعال نؤمن ساعۃ ، ھلم فلنذکر ربنا۔اس طرح فکری تبادلہ کے ذریعہ ہر ایک اپنے علم کو بڑھاتا ہے۔ ہر ایک اپنی معرفت میں اضافہ کرتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
فکری ارتقاء کے اس عمل کو جاری رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ مسلم معاشرہ میں آزادانہ تبادلۂ خیال کا ماحول ہو۔ لوگ کھلے طور پر اپنی بات کو کہیں اور دوسرے کے تبصرہ کو سنیں۔ کہنے والے کو آزادانہ طور پر اپنے دل کی بات کہنے کا موقع ہو اور سننے والوں میں یہ حوصلہ ہو کہ وہ کھلے ذہن کے ساتھ اس کو سنیں۔ اس طرح تبادلۂ افکار کے ذریعہ شعور ایمان کا ارتقائی سفر مسلسل جاری رہے۔ اضافۂ ایمان خلا میں نہیں ہوتا بلکہ افکار کے طوفانوں کے درمیان ہوتا ہے۔ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ تم یہ دعا کرتے رہو کہ اے میرے رب ، میرا علم زیادہ کر دے وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْماً (20:114)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس کی تفسیر یہ کی گئی ہے کہ ربّ زِدنی علماً کا مطلب ہے رَبِّ زِدْنِي فَهْمًا (القرطبی ،جلد11،صفحہ250)یعنی میرے فہم دین میں اضافہ کر دے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس سے معلوم ہوا کہ فہم دین یا علم دین ایک ایسی چیز ہے جس میں برابر اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ معلومات کے اعتبار سے بھی اور بصیرت و معرفت کے اعتبار سے بھی۔
یہ اضافہ بلاشبہ اللہ کی توفیق سے ہوتا ہے۔ مگر اس عالم امتحان کے لیے اللہ کا قانون یہ ہے کہ یہاں ہر ملنے والی چیز حالات و اسباب کے درمیان ملتی ہے۔ اسی طرح دین کا علم و فہم بھی آدمی کو حالات و اسباب کے درمیان حاصل ہوتا ہے۔
انھیں حالات و اسباب میں سے ایک چیز یہ ہے کہ آدمی ہمیشہ اپنے ذہن کی کھڑکیوں کو کھلا رکھے۔ وہ اضافۂ علم کے لیے مسلسل حریص بنا رہے۔ مطالعہ ، مشاہدہ اور مذاکرہ جیسی چیزوں میں برابر مشغول رہے۔ دوسروں سے دیکھنے کے لیے وہ ہر وقت تیار رہتا ہو۔ جب بھی کسی صاحبِ علم یا صاحبِ ذوق سے اس کا ٹکراؤ ہو تو اَنا کے خول سے باہر نکل کر وہ اِس کی باتوں کو سنے اور ذاتی وقار کے احساس سے بلند ہو کر اس سے استفادہ کرے۔
علم میں اضافہ کا براہ راست تعلق طلب میں اضافہ سے ہے۔ بڑھی ہوئی طلب والا ایک آدمی ہی اپنے علم و فہم میں اضافہ کرتا ہے۔ اور طلب کی پہچان یہ ہے کہ آدمی کی کیفیت یہ ہو جائے کہ علم جہاں بھی ملے وہ اس کو لے لے، خواہ وہ اس کے موافق ہو یا اس کے خلاف۔
ہر علم تبادلہ کے ذریعہ بڑھتا ہے، اسی طرح ربانی علم بھی اس دنیا میں تبادلہ کے ذریعہ مسلسل بڑھتا رہتا ہے مذاکرہ، تبادلۂ افکار، ایک دوسرے کے بارے میں اظہار خیال، ایک دوسرے کو اپنی روحانی دریافتیں بتانا اور ان پر اہل ذوق کا تبصرہ سننا، یہ سب وہ ذریعے ہیں جو فہم دین میں اضافہ کرتے ہیں، اور وہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ ماحول میں آزادانہ طور پر افکار و تجربات کا لین دین جاری رہے۔
علم میں اضافہ کی دعا اپنی حقیقت کے اعتبار سے خود اپنی داخلی تڑپ کا ایک دعائیہ اظہار ہے ،نہ کہ متعین قسم کے خارجی الفاظ کی کوئی لسانی تکرار۔