ایک عالم کا واقعہ ہے۔ انھوں نے ایک مسئلہ میں اپنے شیخ طریقت پر تنقید کی اور ان سے مختلف رائے دی۔ کسی شخص نے کہا کہ آپ اپنے شیخ سے اختلاف کر رہے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا کہ شیخ ہم کو محبوب ہیں۔ مگر حق ہمیں شیخ سے بھی زیادہ محبوب ہے (الشيخُ حَبِيبٌ إِلَيْنَا وَلَكِنَّ الْحَقَّ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنَ الشَّيْخِ)۔
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ اختلاف اور تنقید کے معاملہ میں صحیح نقطۂ نظر کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ ہر آدمی کا حسب مراتب احترام کیا جائے گا۔ ہر ایک کے انسانی اور اخلاقی حقوق پوری طرح ادا کیے جائیں گے۔ مگر جب حق کا معاملہ سامنے آ جائے تو حق کو سب سے زیادہ برتری حاصل ہو گی۔ انسان اور انسان کا مقابلہ ہو تو انسان اہم ہے۔ اور انسان اور حق کا مقابلہ ہو تو حق اہم ہے۔ حق کی اہمیت مطلق ہے اور انسان کی اہمیت مقید۔
انسان کے ساتھ سلوک کا معاملہ اخلاق کے تابع ہوتا ہے۔ مگر جب حق سامنے آ جائے تو خود اخلاق بھی حق کے تابع ہو جائے گا۔ کیوں کہ اس دنیا میں حق سے بڑی کوئی چیز نہیں۔ حق کی یہ اہمیت اس لیے ہے کہ حق اس دنیا میں خدا کا نمائندہ ہے۔ حق کا سامنے آنا گویا خدا کا سامنے آنا ہے۔ پھر جب خدا خود سامنے آ جائے تو دوسری کون سی چیز ہو گی جو اس کے مقابلہ میں زیادہ اہمیت رکھتی ہو۔
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی حق کا نام لے کر کھڑا ہو اس کو دوسروں کے اوپر لامحدود اختیار حاصل ہو جائے گا۔ اس معاملہ میں جو فضیلت ہے وہ نفس حق کے لیے ہے نہ کہ حق کا نام لینے والے کسی انسان کے لیے۔ حقیقت یہ ہے کہ حق کا نام لے کر اٹھنے والے کسی فرد کو بھی اسی معیار سے جانچا جائے گا جس سے وہ دوسروں کو جانچنا چاہتا ہے۔ دونوں میں سے جو بھی حق کے معیار پر پورا نہ اترے وہ قابل ملامت ہے، اور اس کی بہترین سعادت یہ ہے کہ وہ اپنے خلاف حق کے فیصلہ کو دل سے قبول کر لے۔ حق کا ظہور خدا کا ظہور ہے۔ مبارک ہے وہ جس کے سامنے حق ظاہر ہو اور وہ اس کو پہچان کر فوراً اس کے آگے جھک جائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔