Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Deen-e-Insaniayat
Deen-e-Insaniayat

حق کا اعتراف

Urdu · 6 min

خلیفہ ثانی عمر فاروقؓ کے زمانہ میں 16ھ میں عراق فتح ہوا۔ اس کے بعد یہ سوال تھا کہ دجلہ و فرات کے علاقہ کی زرخیز زمینیں جو مسلمانوں کے قبضہ میں آئی ہیں، ان کا انتظام کس طرح کیا جائے۔ سابق رواج کے مطابق ، فوجی سرداروں کی رائے یہ تھی کہ اس مفتوحہ زمین کا بڑا حصہ فوجیوں کے درمیان تقسیم کر دیا جائے۔ حضرت عمر کی رائے اس کے خلاف تھی۔ ان کی رائے یہ تھی کہ زمین کو سرکاری بیت المال کے زیر تصرف رہنا چاہئے تاکہ آئندہ نسلوں تک اس کا فائدہ تمام لوگوں کو مل سکے۔

اس مسئلہ پر سخت اختلاف ہوا اور کئی دن تک بحث جاری رہی۔ خاص طور پر خالد بن الولید، عبدالرحمن بن عوف اور بلال بن رباح نے اتنی زیادہ حجت کی کہ حضرت عمر فاروق کی زبان سے یہ الفاظ نکل آئے کہ: اللهُمَّ ‌اكْفِنِي ‌بِلَالًا(السنن الكبرى للبيهقي،حدیث نمبر18392۔یعنی اے اللہ، تو مجھ کو بلال سے نجات دے۔ اس کے بعد اس مسئلہ کو طے کرنے کے لئے ایک مشاورتی بورڈ بنایا گیا جس میں حضرت عثمان، حضرت علی اور حضرت طلحہ جیسے لوگ تھے۔ اس کے باوجود اتفاق رائے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

کئی دن کی بحث کے بعد آخرکار حضرت عمر کو قرآن کی یہ آیت یاد آئی کہ (غنیمت میں) ان مفلس مہاجروں کے لئے حصہ ہے جو اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے نکالے گئے ہیں۔ وہ اللہ کا فضل اور رضامندی چاہتے ہیں۔ اور وہ اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں، یہی لوگ سچے ہیں۔ اور جو لوگ پہلے سے دارالاسلام میں قرار پکڑے ہوئے ہیں اور ایمان استوار کئے ہوئے ہیں، جو ان کے پاس ہجرت کر کے آتا ہے اس سے وہ محبت کرتے ہیں، اور وہ اپنے دلوں میں اس سے تنگی نہیں پاتے جو مہاجرین کو دیا جاتا ہے۔ اور وہ ان کو اپنے اوپر مقدم رکھتے ہیں، اگرچہ ان کے اوپر فاقہ ہو۔ اور جو شخص اپنے جی کے لالچ سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ اور جو اُن کے بعد آئے (وَالَّذِينَ جاؤُ مِنْ بَعْدِهِمْ)59:8-10۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

حضرت عمر فاروق نے لوگوں کو قرآن کی یہ آیت سنائی اور کہا کہ اس آیت میں غنیمت اور فئی کا حکم بیان کرتے ہوئے والذین جاؤ امن بعد ھم (اور جوان کے بعد آئے)لفظ ہے۔ اس سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ فتوحات کے ذریعہ جو اموال ملیں وہ صرف حال کے لوگوں کے لئے نہیں ہیں بلکہ اس میں آنے والی نسلوں کا بھی حق ہے۔ اگر مفتوحہ زمینوں کو میں موجودہ فاتحین کے درمیان بانٹ دوں تو ہماری آئندہ نسلوں کو اس میں حصہ نہیں مل سکے گا۔ اور یہ قرآن کے منشاء کے خلاف ہو گا۔ حضرت عمر کے اس استدلال کو تمام لوگوں نے مان لیا اور ایک زبان ہو کر کہا کہ آپ ہی کی رائے درست ہے۔(دیکھیے، الخراج لابی یوسف، صفحہ 37)

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اس کے بعد یہ اصول قائم ہو گیا کہ فتوحات کے ذریعہ جو زمینیں اسلامی مملکت میں داخل ہوں وہ حکومت اسلامی کی ملکیت قرار پائیں نہ یہ کہ فوج کے افراد میں تقسیم ہو کر ان کی انفرادی ملکیت میں چلی جائیں۔

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سورہ حشر کی مذکورہ آیت نے لوگوں کے ہونٹ سی دئے اور اب ان کے لئے کچھ بولنے کا موقع باقی نہ رہا۔ اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں میں قبولیت حق کا مادہ تھا۔ ان کی بحث نہ سمجھنے کی وجہ سے تھی نہ کہ محض سرکشی کی بنا پر۔ اس لئے جب قرآن کی آیت نے حقیقت کھول دی تو اس کے بعد ان کے لئے سمجھنا کچھ دشوار نہ رہا۔

اس دنیا میں بولنے کی گنجائش اتنی زیادہ ہے کہ آدمی ہر دلیل کے جواب میں اس کے خلاف بولنے کے لئے کچھ نہ کچھ الفاظ پا لیتا ہے۔ اب جو لوگ غیر سنجیدہ ہیں وہ اسی طرح ہر دلیل کے جواب میں الفاظ کا ایک مجموعہ پیش کر کے اسے رد کر دیتے ہیں۔ مگر جو لوگ سنجیدہ ہوں اور اپنے آپ کو اللہ کے سامنے جواب دہ سمجھتے ہوں۔ وہ نہ سمجھنے کی وجہ سے بعض اوقات کسی بات کے مخالف بن جاتے ہیں۔ مگر جب اس بات کو زیادہ واضح دلائل سے ثابت کر دیا جائے تو وہ فوراً مان لیتے ہیں۔ اس کے بعد انھیں اصل بات کو ماننے میں کوئی الجھن پیش نہیں آتی۔

مذکورہ واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اظہار خیال کی آزادی کے آداب و قواعد کیا ہیں۔ وہ یہ ہیں کہ ایک عام آدمی کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ خلیفۂ وقت سے اختلاف کرے۔ مگر اسی کے ساتھ آدمی کو ایسا ہونا چاہیے کہ جب دلیل سامنے آئے تو وہ اس کو پہچان سکے اور اس کے بعد اپنے اختلافات کو ختم کر دے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content