Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Deen-e-Insaniayat
Deen-e-Insaniayat

صحت مند نتائج

Urdu · 6 min

سعید بن ابی عروبہ تابعی نے عالمِ کی تعریف کرتے ہوئے کہا جو آدمی اختلاف کو نہ سنے اس کو عالم نہ شما ر کرو:مَنْ ‌لَمْ ‌يَسْمَعِ ‌الِاخْتِلَافَ فَلَا تَعُدُّوهُ عَالِمًا(جامع بیان العلم و فضلہ ، لابن عبدالبر، اثر نمبر1521)

other sourceWords of another person or source

اختلاف سے مراد جھوٹی تنقید یا الزام تراشی والی باتیں نہیں ہیں۔ اختلاف سے مراد علمی اختلاف ہے۔ اور سنجیدہ علمی اختلاف اتنی قیمتی چیز ہے کہ جو حقیقی عالم ہو گا وہ اس کا حریص ہو گا نہ کہ وہ اس کو برا مانے اور اس کو بند کرنے کی کوشش کرے۔

علم اتناز زیادہ وسیع خزانہ ہے کہ وہ کسی ایک دماغ میں سما نہیں سکتا۔ اس لیے ہر سچا عالم حرص کی حد تک اس کا طالب رہتا ہے کہ کوئی ملے جو اس کی رائے سے اختلاف کرے۔ تاکہ علم کے نئے گوشے کھلیں، تاکہ دوسروں کے علم سے وہ اپنے علم میں اضافہ کرے۔

تاہم اختلاف اور مذاکرہ کا یہی فائدہ نہیں ہے کہ اس کے ذریعہ سے وہ مزید معلومات سامنے آتی ہیں جو دوسروں کے پاس ہیں۔ بلکہ یہ بھی ہوتا ہے کہ خود عالم کا اپنا ذہن زیادہ منقح ہوتا ہے۔ اختلاف و مذاکرہ کے دوران وہ خود اپنے خیالات کو زیادہ واضح اور جامع صورت میں مرتب کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ ایک سچی علمی گفتگو، خواہ وہ کتنا ہی زیادہ اختلافی ہو، ایک صاحب علم اور حقیقت پسند شخص کے لیے لذیذ ترین تجربہ ہے۔ ایسا لمحہ گویا علم کے سمندر میں مشترکہ غوطہ زنی کے ہم معنی ہے۔ جو بے حد پرکیف بھی ہے اور بے حد مفید بھی۔

موجودہ زمانہ میں چونکہ جھوٹے ناقدین بہت بڑھ گئے ہیں اس لیے بہت سے لوگ سچی تنقید کو بھی برا سمجھنے لگے ہیں۔ حالاں کہ دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ جھوٹی تنقید اگر بدبو ہے تو سچی تنقید خوشبو، جھوٹی تنقید اگر کانٹا ہے تو سچی تنقید ایک حسین پھول۔

جھوٹی تنقید ایک قسم کی تخریب کاری ہے۔ اس کے مقابلہ میں سچی تنقید ایک تعمیری عمل ہے۔ وہ اس قابل ہے کہ اس کو ہر حال میں جاری رکھا جائے۔

حریت فِکر

مدینہ میں غلام طبقہ سے تعلق رکھنے والے ایک مرد اور ایک عورت رہتے تھے۔ مرد کا نام مغیث اور عورت کا نام بریرہ تھا، انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ ایک عرصہ کے بعد خاتون آزاد ہو گئیں۔ آزادی کے بعد از روئے قاعدہ انھیں اختیار مل گیا کہ خواہ وہ سابق شوہر کے ساتھ رہیں یا اس سے علیحدگی اختیار کر لیں۔ بریرہ نے علیحدگی کا فیصلہ کیا۔ مگر مغیث کو اس خاتون سے بہت زیادہ لگاؤ تھا۔ اس لیے وہ چاہتے تھے کہ بریرہ اپنے فیصلہ کو بدل دیں اور ان کے ساتھ رہنے پر راضی ہو جائیں۔

یہ ایک لمبا قصہ ہے۔ حدیث کی کتابوں میں اس کی کافی تفصیلات آئی ہیں۔ حتی کہ بریرہ اور مغیث پر مستقل کتابیں لکھی گئی ہیں۔ خلاصہ یہ کہ آخرکار ان کا معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا۔ اس وقت حالت یہ تھی کہ بریرہ آگے آگے تھیں اور مغیث، جو سیاہ فام تھے، ان کے پیچھے اس طرح چل رہے تھے کہ آنسوؤں سے ان کی داڑھی کے بال تر ہو گئے تھے۔ اس کے بعد ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم: لَوْ رَاجَعْتِهِ. قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: إِنَّمَا أَنَا أَشْفَعُ، قَالَتْ: ‌لَا ‌حَاجَةَ ‌لِي ‌فِيهِ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 5283 )۔ یعنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ اچھا ہے کہ تم اس کی طرف رجوع کر لو۔ بریرہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا آپ مجھے اس کا حکم دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ میں صرف سفارش کر رہا ہوں۔ بریرہ نے جواب دیا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ اس بات کی ایک انتہائی اعلیٰ اور آخری مثال ہے کہ اسلام میں عورت اور مرد کو کتنی زیادہ آزادی حاصل ہے۔ یہ آزادی کوئی سرکشی نہیں ہے۔ یہ انسانی فطرت کی رعایت ہے۔ انسان کی شخصیت کا ارتقاء صرف آزادی کے ماحول میں ہو سکتا ہے۔ جس طرح ایک درخت کھلی فضا ہی میں پروان چڑھتا ہے، ٹھیک اسی طرح ایک انسان کا ذہنی اور روحانی وجود صرف اسی وقت بھرپور طور پر نشوونما پاتا ہے جب کہ اس کو کامل فکری آزادی ملی ہوئی ہو۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content