ابن ماجہ نے اپنی کتاب کے مقدمہ میں یہ حدیث نقل کی ہے کہ بابرکت ہے وہ بندہ جس کو اللہ نے بھلائی کا دروازہ کھولنے والا اور برائی کا دروازہ بند کرنے والا بنایا : فَطُوبَى لِعَبْدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ مِفْتَاحًا لِلْخَيْرِ، مِغْلَاقًا لِلشَّرِّ (سنن ابن ماجه،حدیث نمبر 238)۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک سچے اسلامی معاشرہ میں لوگ کس احساس کو لے کر جیتے ہیں۔ ایسے معاشرہ میں ہر آدمی اس احساس کے تحت جی رہا ہوتا ہے کہ معاشرہ کے احوال میں اسے غیر جانب دار نہیں رہنا ہے بلکہ ہر موقع پر اپنا اصلاحی کردار ادا کرنا ہے۔ جہاں اس کو نظر آئے کہ وہ ایک بھلائی کی روایت قائم کر سکتا ہے تو فوراً وہ اس کے لیے آمادہ ہو جائے گا۔ اسی طرح جہاں اس کو دکھائی دے کہ ایک شر جنم لے رہا ہے تو فوراً وہ ا س کو روکنے کے لیے کمربستہ ہو جائے گا۔ خیر کا راستہ کھولنا اور شر کا دروازہ بند کرنا ایمان کے تقاضوں میں سے ایک اہم تقاضا ہے۔
اسلام کا یہ مطلوب اصلاحی عمل کسی ایسے معاشرہ ہی میں انجام دیا جا سکتا ہے جہاں تنقید کو برا نہ سمجھا جاتا ہو۔ جہاں باتوں کو اس لحاظ سے نہ دیکھا جائے کہ وہ کس کے موافق ہے اور کس کے خلاف۔ اس کی وجہ سے کس کی شخصیت اونچی ہوتی ہے اور کس کی شخصیت نیچی۔ حتی کہ کلام کے اس پہلو کو بھی نظرانداز کر دیا جائے کہ وہ نرم الفاظ میں ہے یا سخت الفاظ میں۔ معاشرہ میں جب تک اس قسم کا آزادانہ ماحول نہ ہو، کسی کے لیے مذکورہ مومنانہ عمل انجام دینا ممکن ہی نہیں۔
کسی معاشرہ میں اس روح کا پایا جانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس معاشرہ کے افراد صرف اپنے لیے نہیں سوچتے بلکہ دوسروں کے لیے بھی سوچتے ہیں۔ ان کے اندر اعلیٰ انسانی اور اخلاقی احساسات زندہ ہیں۔ وہ اپنے ماحول کے بارے میں انتہائی سنجیدہ ہیں۔ وہ حق کے لیے کسی اور کی رعایت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کے دل میں ہر ایک کے لیے خیرخواہی کا جذبہ موجود ہے۔ وہ مجموعی انسانیت کا فائدہ چاہتے ہیں نہ کہ صرف اپنا یا اپنی ذات کا فائدہ۔ تاہم یہ نیکی صرف ان لوگوں کا مقدر ہے جو اظہار حق کے ساتھ قبولیتِ حق کا مادہ بھی اپنے اندر رکھتے ہوں۔
بھلائی کا دروازہ کھولنا اور برائی کا دروازہ بند کرنا، یہ کوئی یک طرفہ عمل نہیں ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ کسی فرد یا گروہ کو خدائی لائسنس دے دیا گیا ہے کہ وہ دوسرے لوگوں کا احتساب کریں اور دوسروں کو ان کا احتساب کرنے کا حق نہ ہو۔ بلکہ یہ دوطرفہ عمل ہے، اور معاشرہ کے سبھی لوگوں کی طرف سے سبھی لوگوں کے اوپر جاری رہتا ہے۔
اسی لیے قرآن و حدیث میں اس کے لیے وہ صیغے استعمال کیے گئے ہیں جن میں دوطرفہ مشارکت کا مفہوم ہے۔ مثلاً فرمایا کہ وَتَواصَوْا بِالْحَقِّ (103:3) یعنی ایک دوسرے کو باہم حق کی نصیحت کرو۔ اسی طرح فرمایا کہ: كانُوا لا يَتَناهَوْنَ عَنْ مُنكَرٍ فَعَلُوهُ (70:37) یعنی وہ بگاڑ کے وقت ایک دوسرے کو برے کام سے روکتے نہیں تھے۔ اسی طرح حدیث میں ہے کہ: بَلِ ائْتَمِرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَتَنَاهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ(سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4341)۔ یعنی تم آپس میں ایک دوسرے کو معروف کی تلقین کرو اور آپس میں ایک دوسرے کو برائی سے روکو۔
خلیفہ دوم حضرت عمر فاروقؓ کے بہت سے واقعات اس سلسلہ میں سیرت کی کتابوں میں آئے ہیں۔ مثلاً متعدد بار ایسا ہوا کہ انھوں نے ایک حکم جاری کیا۔ ایک شخص نے شرعی دلیل کے ساتھ بتایا کہ آپ کا حکم درست نہیں۔ اس کے بعد فوراً انھوں نے اپنا حکم واپس لے لیا اور کہا کہ لَوْلَا فُلانٌ لَهَلَكَ عُمَرُ (السنن الکبریٰ للبیہقی، اثر نمبر 15558)۔یعنی، اگر فلاں شخص نہ ہوتا تو عمر ہلاک ہو جاتا۔ ایک مرتبہ حضرت عمر رات کے گشت پر نکلے۔ دیکھا کہ ایک آدمی شہر کے باہر کھڑا ہوا ایک عورت سے بات کر رہا ہے۔ انھوں نے اس کو کوڑا مار دیا۔ اس نے کہا کہ آپ نے کیوں مجھے کوڑا مارا۔ حضرت عمرؓ نے کہا کہ تم رات کے وقت ایک اجنبی عورت سے بات کر رہے ہو۔ اس نے بتایا کہ یہ اجنبی عورت نہیں ہے، یہ میری بیوی ہے۔ ہم دونوں باہر سے آ کر ابھی یہاں پہنچے ہیں۔ ہم مشورہ کررہے تھے کہ اس وقت شہر میں کس کے گھر جائیں۔ حضرت عمر نے فوراً کوڑا مذکورہ آدمی کے ہاتھ میں دے دیا اور کہا کہ اب تم مجھے کوڑا مارو، کیوں کہ اس معاملہ میں اصل غلطی میری تھی۔
یہی ہمیشہ تمام صالحین کا معاملہ رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو آدمی اپنے خلاف تنقید سننے کے لیے تیار نہ ہو، اس کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ دوسروں کے اوپر تنقید کرے۔ اسلام میں اختلاف اور محاسبہ کا حق ایک مشترک حق ہے نہ کہ کسی ایک کا مخصوص حق۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔