Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Deen-e-Insaniayat
Deen-e-Insaniayat

سوال و جواب

Urdu · 3 min

حضرت علی بن ابی طالبؓ کی خلافت کے زمانہ میں مسلمانوں کا ایک طبقہ آپ کا باغی ہو گیا۔ اس نے زبردست خلفشار برپا کیا۔ دو لڑائیاں ہوئیں جن میں تقریباً چالیس ہزار مسلمان مارے گئے۔ حتی کہ خود حضرت علی کو شہید کر دیا گیا۔ اس خلفشار کے زمانہ میں آپ کے مخالف گروہ کا ایک آدمی آپ سے ملا۔ اس نے آپ سے کچھ ناقدانہ سوالات کیے۔ اس نے کہا کہ ایسا کیوں ہے کہ آپ کی خلافت کے زمانہ میں مسلمانوں کے درمیان اتنا اختلاف و انتشار پیدا ہو گیا۔ حالاں کہ ابوبکر و عمر خلیفہ تھے تو ان کے زمانہ میں اس طرح کے اختلافات برپا نہیں ہوئے۔ حضرت علی نے جواب دیا: لِأَنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرُ كَانَا وَالِيَيْنِ عَلَى مِثْلِي وَأَنَا الْيَوْمَ وَالٍ عَلَى مِثْلِكَ۔(مقدمہ ابن خلدون،صفحہ211)۔اس لیے کہ ابوبکر و عمر میرے جیسے لوگوں کے اوپر حاکم تھے اور میں آج تمہارے جیسے آدمی کے اوپر حاکم ہوں۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اس اعتراض و جواب سے ایک اہم حقیقت واضح ہو کر سامنے آ گئی۔ وہ یہ کہ صحیح اسلامی حکومت کے قائم ہونے کی سب سے اہم شرط کیا ہے۔ وہ شرط یہ ہے کہ سماج کے اندر واضح طور پر اس کے موافق حالات موجود ہوں۔ حضرت علی کے جواب کے الفاظ میں یہ کہنا درست ہو گا کہ صالح سیاسی نظام کے قیام کی شرط یہ ہے کہ ایک طرف صدر ریاست کی کرسی پر ابوبکرو عمر جیسا ایک فرد بیٹھا ہوا ہو ، اور دوسری طرف معاشرہ پر اصحاب رسول جیسے لوگوں کا غلبہ ہو۔ خلافت مثل عمر کے ہاتھ میں ہو اور معاشرہ امثال علی پر مشتمل ہو۔

اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام کے دور اول میں کس طرح یہ ماحول تھا کہ ایک عام آدمی وقت کے خلیفہ سے براہ راست ناقدانہ سوال کر سکتا تھا اور خلیفہ معتدل انداز میں اس کا جواب دیتا تھا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب معاشرہ میں سوال و جواب کا کھلا ماحول ہو تو کس طرح الجھے ہوئے ذہنوں کی صفائی ہوتی ہے۔ کس طرح بڑے بڑے اشکالات کا حل خود متعلق شخصیتوں کے ذریعہ منقح ہو کر سامنے آ جاتا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content