قرآن میں وراثت کا قانون بناتے ہوئے ایک آیت یہ آئی ہے کہ: مِنَ الَّذِينَ اسْتَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْأَوْلَيانِ (ان میں سے جن کا کہ حق دبا ہے جو سب سے قریب ہوں میت کے)5:107۔ اس آیت کے لفظ الاولیان کی قرآت میں اختلاف ہے۔ حسن نے اس کو الاوّلان پڑھا ہے، اور ابن سیرین نے اس کو الاوّلین پڑھا ہے (القرطبی 6/359 )
ایک بار ایسا ہوا کہ حضرت ابی بن کعب نے یہ آیت پڑھی اور الاولیان کی قرأت اپنے لحاظ سے کی جو کہ خلیفہ دوم عمر فاروق کی قرأت سے مختلف تھی، حضرت عمر نے اس کو سن کر کہا کہ تم نے جھوٹ کہا (کذبتَ)حضرت کعب نے جواب میں کہا کہ تم خود زیادہ بڑے جھوٹے ہو (انتَ اکذب)ایک شخص نے اس کو سن کر حضرت کعب سے کہا کہ تم امیر المومنین کو جھوٹا کہہ رہے ہو۔ انھوں نے کہا کہ میں تم سے زیادہ امیر المومنین کے حق کی تعظیم کرتا ہوں۔ لیکن میں نے ان کو اللہ کی کتاب کی تصدیق کے معاملہ میں جھٹلایا ہے، میں نے اللہ کی کتاب کی تکذیب کے معاملہ میں امیر المومنین کی تصدیق نہیں کی۔ حضرت عمر فاروق نے کہا کہ انھوں نے ٹھیک کہا (تاریخ المدینہ لابن شبۃ، جلد2، صفحہ709)۔
یہ گفتگو دو بڑے صحابی کے درمیان ہوئی۔ معترض صحابی نے ایسا نہیں کیا کہ وہ مختلف قرأت سن کر یہ کہتے کہ یا فضیلۃ الاستاذ، اسمح لی، لعلک اخطأتَ فی القرأۃ۔ بلکہ اپنی اندرونی کیفیت کے مطابق ، بے تکلف ان کی زبان سے نکلا کہ کذبتَ(تم نے جھوٹ کہا)
اس واقعہ سے ایک اہم اصول اخذ ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ اظہار رائے کی آزادی کسی شرط کے بغیر ہونی چاہیے۔ شرط عائد کرنے کا نتیجہ یہ ہو گا کہ لوگوں کے دل میں کچھ ہو اور الفاظ کے ذریعہ اس کا اظہار وہ کچھ اور انداز میں کریں۔ یہ طرز کلام دھیرے دھیرے لوگوں کے اندر ظاہر داری پیدا کرے گا، اور ظاہر داری آخر کار ریاکاری کی صورت اختیار کر لے گی۔
ایک بات جس کو آدمی حق سمجھے، فطری طور پر وہ اس کو بے کم و کاست ظاہر کرنا چاہتا ہے۔ اگر اس کے اوپر مصنوعی پابندی لگائی جائے تو وہ شدید تر نقصان کا باعث بن جائے گی۔ وہ لوگوں کے اندر دہرا شخصیت کی تشکیل کر ے گی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔