صحیح البخاری (کتاب العلم) میں انس بن مالکؓ کی ایک روایت ہے۔ وہ مدینہ کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں جس میں وہ خود موجود تھے۔ اس کا ابتدائی حصہ یہ ہے: بَيْنَما نَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي المَسْجِدِ، دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ، فأَناخَهُ فِي المَسْجِدِ ثُمَّ عَقَلَهُ، ثُمَّ قالَ لَهُمْ: أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ؟ والنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ، فَقُلْنا: هذا الرَّجُلُ الأَبْيَضُ المُتَّكِئ. فقالَ لَهُ الرَّجُلُ: ابْنَ عَبْدِ المُطَّلِبِ! فقالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم: قَدْ أَجَبْتُكَ. فقالَ الرَّجُلُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم: إِنِّي سائِلُكَ فَمُشَدِّدٌ عَلَيْكَ فِي المَسْأَلَةِ، فَلا تَجِدْ عَلَيَّ فِي نَفْسِكَ. فقالَ: سَلْ عَمَّا بَدا لَكَ. فقالَ: أَسْأَلُكَ بِرَبِّكَ وَرَبِّ مَنْ قَبْلَكَ، آللَّهُ أَرْسَلَكَ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ؟ فقالَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ ۔ الخ۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 63) یعنی، ہم لوگ مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص اونٹ پر سوار ہو کر داخل ہوا۔ اس نے اپنا اونٹ مسجد میں بٹھایا، پھر اس نے اسے باندھا۔ پھر اس نے لوگوں سے پوچھا کہ تم میں محمدؐ کون ہیں۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ تکیہ لگائے ہوئے ہمارے سامنے بیٹھے تھے۔ ہم نے کہا کہ یہ سفید آدمی جو تکیہ لگائے ہوئے ہے۔ آنے والے نے کہا، اے عبدالمطلب کے بیٹے، آپ نے فرمایا کہ میں نے تمہاری بات سن لی۔ اس نے کہا کہ میں آپ سے سوال کروں گا اور سوال میں آپ سے سختی کروں گا۔ آپ اپنے دل میں میرے اوپر غصہ نہ ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ پوچھو جو تم پوچھنا چاہتے ہو۔ اس نے کہا کہ میں آپ کو آپ کے رب کی اور جو آپ سے پہلے تھے ان کے رب کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اللہ نے آپ کو سارے انسانوں کی طرف بھیجا ہے۔ آپ نے فرمایا، خدایا ہاں ۔ الخ
پیغمبر اسلامؐ کا یہ واقعہ بتاتا ہے کہ اسلامی معاشرہ میں ہر ایک کو آزادی حاصل ہے کہ وہ بڑے سے بڑے آدمی سے بھی جو سوال چاہے کرے۔ حتی کہ وہ اپنے کلام میں سخت انداز اختیار کرنے کے لیے بھی آزاد ہے۔ مخاطب کو چاہیے کہ وہ سائل پر غصہ نہ ہو بلکہ ٹھنڈے طریقہ پر اس کے ہر سوال کا جواب دے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔