طارق بن شھاب بیان کرتے ہیں کہ خالد بن الولید اور سعد بن ابی وقاصؓ کے درمیان ایک معاملہ میں اختلاف تھا، ان لوگوں کے درمیان اس پر بحث ہوتی تھی۔ مگر بہت دن تک دونوں کا اختلاف ختم نہیں ہوا۔
اس درمیان میں ایک شخص سعد بن ابی وقاص کے پاس آیا، اس نے حضرت سعد سے خالد بن الولید کی کچھ برائی بیان کی (مثلاً یہ کہ انھوں نے بہت دیر بعد اسلام قبول کیا اور غزوہ احد میں وہ مشرکین کی فوج کے سردار تھے) حضرت سعد نے مذکورہ شخص کی باتوں کو سن کر کہا کہ رک جا، ہمارے اور خالد کے درمیان جو اختلاف ہے وہ ہمارے دین پر اثرانداز نہیں ہو گا : فَإِنَّ مَا بَيْنَنَا لَمْ يَبْلُغْ دِينَنَا (مصنف ابن ابی شیبۃ، حدیث نمبر 27187)
اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دو بڑے سے بڑے عالم یا بزرگ کے درمیان گہرا اختلاف ہو سکتا ہے۔ مگر عین اختلاف کے وقت بھی وہ سختی کے ساتھ اپنی حد پر رہے گا۔ وہ کسی حال میں بھی حد سے باہر نہیں جائے گا۔
یہ حد بندی دو اعتبار سے ہو گی۔ ایک تو یہ کہ دونوں جب اس معاملہ میں بحث و گفتگو کریں گے تو ان کا کلام شدت کے ساتھ صرف اختلافی نکتہ تک مرتکز رہے گا، وہ اصل اختلافی نکتہ سے اِدھر اُدھر منحرف نہیں ہو گا۔
دوسرے یہ کہ دونوں فریق کامل طور پر اس کا لحاظ رکھیں گے کہ ان کا اختلاف دماغی بحث کی سطح پر رہے، وہ اس سے آگے بڑھ کر دلوں کی کدورت نہ بننے پائے۔
’’وہ ہمارے دین پر اثرانداز نہیں ہو گا‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ اس اختلاف کی وجہ سے ہم ایک دوسرے کی نیت پر شبہ کرنے لگیں۔ ہم ایک دوسرے پر اخلاقی نوعیت کا الزام لگانے لگیں۔ ہم ایک دوسرے کی شخصیت پر چوٹ کرنا شروع کر دیں۔ ہم دونوں کی بحث تمام تر دلائل پر چلے گی نہ کہ الزام تراشی اور عیب جوئی پر۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔