Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Deen-e-Insaniayat
Deen-e-Insaniayat

حد بندی

Urdu · 3 min

طارق بن شھاب بیان کرتے ہیں کہ خالد بن الولید اور سعد بن ابی وقاصؓ کے درمیان ایک معاملہ میں اختلاف تھا، ان لوگوں کے درمیان اس پر بحث ہوتی تھی۔ مگر بہت دن تک دونوں کا اختلاف ختم نہیں ہوا۔

hadithQuotes a hadith

اس درمیان میں ایک شخص سعد بن ابی وقاص کے پاس آیا، اس نے حضرت سعد سے خالد بن الولید کی کچھ برائی بیان کی (مثلاً یہ کہ انھوں نے بہت دیر بعد اسلام قبول کیا اور غزوہ احد میں وہ مشرکین کی فوج کے سردار تھے) حضرت سعد نے مذکورہ شخص کی باتوں کو سن کر کہا کہ رک جا، ہمارے اور خالد کے درمیان جو اختلاف ہے وہ ہمارے دین پر اثرانداز نہیں ہو گا : فَإِنَّ مَا بَيْنَنَا لَمْ يَبْلُغْ دِينَنَا (مصنف ابن ابی شیبۃ، حدیث نمبر 27187)

quoted sourceQuoted from another author or source

اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دو بڑے سے بڑے عالم یا بزرگ کے درمیان گہرا اختلاف ہو سکتا ہے۔ مگر عین اختلاف کے وقت بھی وہ سختی کے ساتھ اپنی حد پر رہے گا۔ وہ کسی حال میں بھی حد سے باہر نہیں جائے گا۔

یہ حد بندی دو اعتبار سے ہو گی۔ ایک تو یہ کہ دونوں جب اس معاملہ میں بحث و گفتگو کریں گے تو ان کا کلام شدت کے ساتھ صرف اختلافی نکتہ تک مرتکز رہے گا، وہ اصل اختلافی نکتہ سے اِدھر اُدھر منحرف نہیں ہو گا۔

دوسرے یہ کہ دونوں فریق کامل طور پر اس کا لحاظ رکھیں گے کہ ان کا اختلاف دماغی بحث کی سطح پر رہے، وہ اس سے آگے بڑھ کر دلوں کی کدورت نہ بننے پائے۔

’’وہ ہمارے دین پر اثرانداز نہیں ہو گا‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ اس اختلاف کی وجہ سے ہم ایک دوسرے کی نیت پر شبہ کرنے لگیں۔ ہم ایک دوسرے پر اخلاقی نوعیت کا الزام لگانے لگیں۔ ہم ایک دوسرے کی شخصیت پر چوٹ کرنا شروع کر دیں۔ ہم دونوں کی بحث تمام تر دلائل پر چلے گی نہ کہ الزام تراشی اور عیب جوئی پر۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content