حضرت عمر فاروقؓ جب خلیفہ تھے، وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ میں تمہاری ہی طرح ہوں اور تم لوگوں میں سے صرف ایک ہوں۔ اس لیے تم میرے خلاف جو بات بھی محسوس کروں اسے آزادانہ طور پر کہہ سکتے ہو۔ اس معاملہ میں تمہارے اوپر کوئی پابندی نہیں۔
ایک بار مدینہ کی مسجد کے منبر پر کھڑے ہو کر حضرت عمر لوگوں کے سامنے خطبہ دے رہے تھے، اس دوران انھوں نے کہا کہ میرے اندر اگر تم کوئی ٹیڑھ دیکھو تو اس وقت تم کیا کرو گے۔ ایک لمحہ خاموشی طاری رہی۔ اس کے بعد ایک شخص کھڑا ہوا۔ اس نے کہا کہ خدا کی قسم، اگر ہم نے آپ کے اندر کوئی ٹیڑھ دیکھا تو اس کو ہم اپنی تلواروں سے سیدھا کر دیں گے (لَوْ مِلْتَ عَدَلْنَاكَ)
اس کے بعد مسجد میں جو واقعہ پیش آیا وہ راوی کے الفاظ میں یہ تھا کہ حضرت عمر خوش ہو گئے۔ انھوں نے کہا کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے مسلمانوں میں ایسے افراد بنائے جو عمر کی ٹیڑھ کو اپنی تلوار سے سیدھا کر دیں گے (الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَنِي فِي قَوْمٍ إِذَا مِلْتُ عَدَلُونِي)(الزہد و الرقائق لابن المبارک، اثر نمبر512 )
اسلام کے دوسرے خلیفۂ راشد کی یہ مثال بتاتی ہے کہ تنقید و اختلاف کوئی مبغوض چیز نہیں، بلکہ وہ انتہائی محبوب چیز ہے۔ حتی کہ ایک عام آدمی اگر خلیفۂ وقت کے خلاف غیر مودبانہ انداز میں بولے تب بھی اس کو خوش آمدید کہا جائے گا۔
اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ تنقید کے وقت ناقد کو نہ دیکھو، بلکہ اپنے آپ کو دیکھو۔ ناقد اگر تمہاری کسی غلطی کی نشاندہی کر رہا ہے تو وہ عین تمہاری بھلائی کا کام کر رہا ہے۔ ایسے اچھے کام کو صرف اس لیے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے اپنی بات کہنے کے لیے نامناسب اسلوب اختیار کیا تھا۔
خلیفۂ دوم کے اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ معاشرہ میں جو بڑے لوگ ہوں انھیں چاہیے کہ وہ آزادانہ اظہار خیال کی حوصلہ افزائی کریں۔ حتی کہ خود اپنے آپ کو کھلی تنقید کے لیے پیش کریں۔ اور یہ پیش کرنا حقیقی طور پر ہو نہ کہ مصنوعی طور پر۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔